85 شدت پسندوں اور 32 مراکز کی تفصیلات پاکستان کے حوالے: افغانستان

افغانستان تصویر کے کاپی رائٹ MFA Afghanistan

افغانستان کا کہنا ہے کہ اس نے شدت پسندوں اور شدت پسندی کے مراکز سے متعلق مکمل تفصیلات پاکستان کے حوالے کر دی ہیں۔

افغانستان کی وزارت خارجہ نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں اُن کے سفارتی اہلکاروں نے پاکستان کو 85 اُن شدت پسندوں کے پتے اور ان تک پہنچنے کے نقشے فراہم کیے ہیں۔

بیان کے مطابق پاکستان کو دی گئی معلومات میں شدت پسندوں کے 32 مراکز کے پتے اور ان تک پہنچنے کے نقشے بھی شامل ہیں۔

* ’افغانستان میں چھپے 76 دہشت گرد پاکستان کے حوالے کریں‘

* 'افغانستان میں جاری جنگ خانہ جنگی نہیں ہے‘

معلومات دینے کے بعد افغانستان نے پاکستان سے ان کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق اس فہرست میں طالبان کے رہبر شوریٰ، حقانی نیٹ ورک سمیت 85 ایسے دہشت گرد ہیں جو پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں موجود ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دہشت گرد افغانستان میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہیں اور اُنھیں افغانستان کے حوالے کیا جائے۔

پریس ریلیز میں پاکستانی حکام کی جانب سے مثبت جواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اُنہیں یقین دلایا گیا کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔

اس سے پہلے پاکستانی فوج نے تین روز قبل افغان سفارتخانے کے حکام کو جی ایچ کیو طلب کر کے ان سے وہاں پناہ لینے والے شدت پسندوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق افغان حکام کو ایسے 76 شدت پسندوں کی فہرست دی گئی ہے جنھوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے۔ افغان حکام سے کہا تھا کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں اور انھیں پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

جمعرات کی شام سندھ کے شہر سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خودکش حملے میں 70 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد بھی تاحکمِ ثانی بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستانی فوج کے مطابق یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کیا گیا۔

پاکستان میں گذشتہ چند دنوں کے دوران شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ان میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں