سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تہران پر ڈرون اڑانے کے لیے لائسنس لینا لازم

تصویر کے کاپی رائٹ PA

ایرانی حکام نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر چند ہفتوں میں ڈرونز پر فائرنگ کے کم از کم دو واقعات کے بعد تہران پر نجی ڈرونز کی پرواز پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ایران کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرونز اڑانے کے لائسنس افراد کو نہیں متعلقہ تنظیموں کو دیے جائیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حساس تنصیبات کی جانب پرواز کرنے والے ڈرونز کی وجہ سے سکیورٹی الرٹ جاری کیے گئے۔

تہران میں ڈرونز کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے لیکن مقامی افراد ان سے کافی نالاں ہیں۔

پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر علی رضا کا کہنا ہے 'ڈرونز پر کیمرے نصب ہوتے ہیں اور حساس مقامات پر پرواز کرتے ہیں، فلم بنائی جاتی ہے اور اس سے دشمنوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔اور یہ ڈرونز سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔'

واضح رہے کہ دسمبر میں ایک ڈرون کو اس وقت مار گرایا گیا جب یہ نو فلائی زون میں داخل ہوا۔ اس علاقے میں ملک کے اعلیٰ عہدیداران کے دفاتر ہیں بشمول رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای۔

اطلاعات کے مطابق یہ ڈرون سرکاری ٹی وی چینل کا تھا اور اس کو ایک دستاویزی فلم بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

ایک اور واقعہ جنوری میں پیش آیا جب خاتم‌الانبیا ایئر ڈیفنس نے وسط تہران میں اڑنے والے ڈرون پر طیارہ شکن بندوق سے فائر کیا۔ تاہم اس واقعے میں ڈرون کو گرایا نہیں جا سکا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تمام ڈرونز کے لیے پرمٹ لینا لازمی ہے لیکن یہ پرمٹ کسی شخص کے نام پر نہیں دیے جائیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں