آج بجلی چاہیے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیر اعظم نے سوچا ہوگا کہ ریاستی حکومت انتخابات میں مصروف ہے، اسے یاد دلاتے چلیں کہ اگر ریاست میں قبرستان ہیں تو شمشان گھاٹ بھی ہونے چاہئیں!

وزیراعظم نریندر مودی کی ایک خوبی کا اعتراف تو کرنا پڑے گا، ان کے راج میں کسی کی حق تلفی نہیں ہوسکتی۔ وہ ایک حق پرست انصاف پسند رہنما ہیں، ان کے دربار میں آکر کوئی گھنٹی بجائے نہ بجائے، سب کو انصاف ضرور ملتا ہے۔ ان کی نگاہ سب پر ہے!

جب اتوار کو وہ شمالی ریاست اتر پردیش گئے تو شاید کسی نے ان سے شکایت کی کہ رمضان کے مہینے میں ریاست کے چھوٹے بڑے شہروں، گاؤں دیہات اور ہر گلی کوچے میں خوب بجلی آتی ہے، ہر طرف چراغاں رہتا ہے، لیکن دیوالی کے موقع پر نہیں۔

ہندوؤں سے امتیازی سلوک، مودی کا شکوہ

وزیر اعظم کا ماتھا ٹھنکا ہوگا۔ پھر شاید انہوں نے سوچا ہوگا کہ اچھا، اسی لیے لوگ دیوالی پر دیے اور موم بتیاں جلاتے ہیں!

پھر شاید ان سے رہا نہیں گیا اور انہوں نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہہ دیا کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے، اگر رمضان میں بجلی آتی ہے تو دیوالی کے موقع پر بھی آنی چاہیے۔

جو انسان پیدا ہوتا ہے وہ مرتا بھی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہی زندگی کا سب سے بڑا سچ ہے۔ وزیر اعظم نے سوچا ہوگا کہ ریاستی حکومت انتخابات میں مصروف ہے، اسے یاد دلاتے چلیں کہ اگر ریاست میں قبرستان ہیں تو شمشان گھاٹ بھی ہونے چاہئیں!

اپوزیشن جماعتوں کے کوتاہ نظر رہنما وزیر اعظم پر تنقید کر رہے ہیں، کچھ لوگ الیکشن کمیشن سے شکایت کرنا چاہتے ہیں، کوئی کہہ رہا ہے کہ بی جے پی کو ریاستی انتخابات میں شکست نظر آرہی ہے، اس لیے اس کے رہنما بوکھلا رہے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ حکمرانوں کو تلخ فیصلے کرنے ہی پڑتے ہیں، اور تنقید کرنے سے پہلے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ دیوالی اور ہولی پر بجلی آئے گی تو سب کے گھروں میں پہنچے گی، صرف ہندوؤں کے نہیں!

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بجلی کے محکمے والے گھر گھر جاکر یہ نہیں پوچھتے کہ آپ ہندو ہیں یا مسلمان، آج ہولی ہے، آپ کو بجلی چاہیے یا نہیں؟ یا موم بتی اور دیئوں سے کام چل جائے گا؟

اور وزیر اعظم نے یہ نہیں کہا کہ رمضمان میں بجلی کی سپلائی بند کردو، کیونکہ لگتا نہیں ہے کہ رمضان میں بھی بجلی والے گھر گھر جاکر پوچھتے ہوں گے کہ روزہ ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو آپ کے حصے کی بجلی آپ کے ہندو پڑوسی کو دے دیں؟

اور جہاں تک قبرستان اور شمشان گھاٹ کا سوال ہے، شاید ان سے ذرا سی چوک ہوگئی۔ انہیں واضح کرنا چاہیے تھا کہ اگر ایک قبرستان ہو تو چھ شمشان گھاٹ ہونے چاہئیں کیونکہ لوگ عام طور پر آبادی کے تناسب سے ہی مرتے ہیں۔ یا کم سے کم پہلے تو ایسا ہی ہوتا تھا۔

ہندوؤں اور مسلمانوں کے نظریاتی اختلافات اتنے زیادہ ہیں کہ لگتا نہیں کہ عنقریب وہ کسی ایک ہی میدان کو شمشان گھاٹ کی طرح بھی استعمال کرسکیں گے اور قبرستان کی طرح بھی۔ اس لیے بہتر ہے کہ یہ الگ ہی ہوں، اور ان کی تعداد بھی آبادی کے تناسب کے مطابق ہی ہو۔

لیکن کئی چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہندو اور مسلمان ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سکول اور ہسپتال، بس، ٹرین، ہوائی جہاز، سڑکیں ۔۔۔ اور شاید بجلی بھی۔ سنا ہے کہ خود بجلی مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتی، یقین نہ ہو تو بجلی کا تار پکڑ کر دیکھ لیں، وہ کسی کو نہیں چھوڑتی۔ لیکن تار پکڑنے سے پہلے یہ ضرور معلوم کرلیں کہ آس پاس قبرستان اور شمشان گھاٹ کہاں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم پر تنقید کر رہے ہیں، کچھ لوگ الیکشن کمیشن سے شکایت کرنا چاہتے ہیں، کوئی کہہ رہا ہے کہ بی جے پی کو ریاستی انتخابات میں شکست نظر آرہی ہے، اس لیے اس کے رہنما بوکھلا رہے ہیں

بہرحال، بہتر تو یہ ہوگا کہ بجلی کی سپلائی کے لیے رمضان اور ہولی دیوالی کا انتظار ہی نہ کرنا پڑے۔

اور ہوسکتا ہے کہ ایسا جلدی ہی ہو بھی جائے۔ انڈیا کے ایک سرکردہ سائنسدان کا کہنا ہے کہ 2030 تک ملک اپنی توانائی کی تمام ضروریات 'ہیلیئم تھری' کی مدد سے پوری کرسکتا ہے جو چاند سے لایا جائے گا۔ یہ ایک غیر تابکار مادہ ہے جو چاند پر بڑی مقدار میں موجود ہے اور انڈیا کے خلائی تحقیق کے پروگرام اسرو کے سائنسدان سیواتھان پلائی کے مطابق اس پراجیکٹ پر کام جاری ہے اور اسے 2030 تک عملی شکل دی جاسکتی ہے۔

چین سمیت بہت سےدوسرے ممالک بھی اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں لیکن بظاہر چاند کی خاک میں اتنی ہیلیئم تھری ہے کہ پوری دنیا کا کام چل سکتا ہے۔

اتر پردیش میں بجلی والوں کو اب بے صبری سے چاند کی خاک کا انتظار رہے گا، تب تک شاید وہ دیوالی اور رمضان میں لوگوں کے دروازوں پر دستک دیتے رہیں گے: آج بجلی چاہیے کیا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں