’کس کس کو سمجھائیں کہ ہمارا بیٹا بے گناہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bhadur
Image caption محمد حسین فاضلی کو عدالت نے دہلی میں ہونے والے دھماکوں کے الزام سے بری کر دیا ہے

محمد حسین فاضلی کے گھر کے پچھلے حصے میں کئی چیزیں بکھری پڑی ہیں، ویسے ہی جیسے حسین اور ان کے خاندان کی زندگی اور سکون گزشتہ 12 برسوں سے بِکھرا ہوا تھا۔

43 سالہ حسین سری نگر میں اپنے گھر میں کمبل اوڑھے بیٹھے ہیں اور ارد گرد بیٹپے لوگوں کو جیل میں گزارے وقت کی کہانی سنا رہے ہیں۔

جو بھی آتا ہے حسین کھڑے ہوکر اسے گلے لگاتے ہیں۔ اتنا عرصہ گزر چکا ہے کہ وہ یہاں آنے والے کئی لوگوں اور اپنے خاندان کی نئی نسل میں سے کسی کو بھی نہیں پہچانتے۔

حسین کو گذشتہ دنوں ایک عدالت نے 2005 میں دلی میں ہونے والے سلسلے وار بم دھماکوں کے الزامات سے بری کیا ہے۔ ان دھماکوں میں 68 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حسین کو رہا ہونے کی خوشی تو ہے، لیکن وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ جیل میں 12 برس قید کے دوران ان کے ماں باپ کی صحت خراب گئی ہے۔

حسین کے بقول ’اب گھر پہنچ کر مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے کیا کھویا، گھر پہنچا تو ماں کو بستر پر لیٹا پایا، باپ کی آنکھوں کی روشنی بھی ختم ہو گئی ہے.‘

محمد حسین فاضلی اپنے گھر کے جس کمرے میں بیٹھے ہیں، وہاں کونے میں ایک سیاہ رنگ کا پرانا ٹیلی فون رکھا ہوا ہے۔ جب وہ جیل میں تھے تو حسین کا اپنے ماں باپ سے رابطے کا واحد ذریعہ یہ فون ہی تھا۔

گذشتہ 12 برس میں حسین کے ماں باپ کبھی اپنے بیٹے کو ملنے نہیں جا سکے، کیوں کہ وہ دلی آنے جانے کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

حسین بار بار ایک ہی سوال پوچھتے ہیں، ’میرے 12 سال کون واپس لوٹائے گا؟‘

شادی کی عمر

بیگناہ ہونے کے باوجود بارہ سال جیل میں گزارنے پر حسین سوال کرتے ہیں کہ ’جس طرح مجھے 12 سال کے بعد جیل سے بری کر دیا گیا، کیا بارہ سال پہلے ایسا نہیں ہو سکتا تھا؟ میری زندگی تو تباہ ہو گئی. جب گرفتار کیا گیا تو میری شادی کی عمر تھی۔‘

یہ پوچھنے پر کہ کیا جن لوگوں نے آپ کو گرفتار کیا تھا، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یا پھر آپ کو معاوضہ ملنا چاہیے، تو ان کا کہنا تھا کہ’ میرا مطالبہ ہے کہ جن پولیس والوں نے مجھے اٹھایا تھا، ان سے یہ پوچھا جائے کہ میرے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bhadur
Image caption اپنی رہائی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھیں خدا پر بھروسہ تھا کہ انصاف کی جیت ہو گی

جب حسین کو گرفتار کیا گیا اس وقت ان کی عمر 31 برس تھی اور گھر میں شادی کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اب حسین کے والد کو یہ خدشہ ہے کہ بیٹے پر جو داغ لگا ہے وہ اتنی جلدی نہیں مٹے گا۔

حسین کے والد کا کہنا تھا ’کس کس کو سمجھائیں کہ ہمارا بیٹا بے گناہ ہے.‘

تاہم انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ انہوں نے مرنے سے پہلے بیٹے کو دیکھ لیا ’بس یہ ایک خواب تھا کی مرنے سے پہلے بیٹے کو دیکھ لیں، جو مکمل ہو گیا.‘

چند منٹ کی پوچھ گچھ

حسین کو اپنے گھر سے یہ کہہ کر گرفتار کیا گیا تھا کہ چند منٹ کی پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا جائے گا۔ حسین کو یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا اور کہاں لے جایا جا رہا ہے۔

انہیں کئی دنوں کے بعد ایک صحافی سے پتہ چلا کہ وہ دلی میں ہیں۔ دلی دھماکوں کے الزامات میں انہیں دلی لے جایا گیا اور پھر انہیں 12 سال جیل میں کاٹنے پڑے.

اپنی رہائی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھیں خدا پر بھروسہ تھا کہ انصاف کی جیت ہو گی۔

حسین کے بقول انھیں صرف اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ وہ کشمیری ہیں ’ مجھے اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ میں کشمیری مسلمان ہوں‘۔

اسی بارے میں