انڈیا میں مسلمان ہندوؤں سے زیادہ کیسے ہوں؟

کرن ریجیجو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرن ریجیجو کے حالیہ بیان پر ایک بار پھر مسلمانوں کی آبادی پر سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے

’مسلمانوں کے گھر مسلمان پیدا ہوتے ہیں اور باقیوں کے گھر بچے‘، جیسے پروپیگنڈے سے ناراض ایک مسلمان کا یہ بیان یاد آ گیا۔

انڈیا کے نائب وزیر داخلہ کرن ریجیجو نے اسمبلی انتخابات کے ماحول میں کچھ ایسا ہی کہا جیسا کہ ہندو تنظیم آر ایس ایس کے رہنما اکثر کہتے رہے ہیں۔ انھوں نے ٹویٹ کیا، 'ہندوؤں کی آبادی گھٹ رہی ہے اور اقلیتیں بڑھ رہی ہیں۔‘

حالانکہ ریجیجو کا بیان شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے متعلق تھا جہاں گذشتہ چند سالوں میں عیسائی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

٭ اک معمہ، سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

٭ 'تاب لائے ہی بنے گی غالب'

بہر حال، مردم شماری کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں ہندوؤں ہی نہیں، مسلمانوں، عیسائیوں، بدھ مت، سکھوں اور جینیوں یعنی ہر کمیونٹی میں آبادی کے اضافے کی شرح کم ہوئی ہے۔

مجموعی آبادی میں کمی، اضافہ اور اضافے کی شرح میں تبدیلی، دو مختلف چیزیں ہیں۔ مطلب یہ کہ انڈیا میں ہندو اور مسلمان سمیت تمام برادریوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن تمام کمیونٹیز کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی تھی اس میں کمی آئی ہے۔

دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ گذشتہ دس سالوں میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی شرح میں، ہندوؤں کے مقابلے زیادہ کمی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption کرن ریجیجو کے حالیہ ٹویٹ سے ایک بار پھر انڈیا میں مسلم آبادی کے متعلق بحث تیز ہو گئی ہے

ذرا غور کریں، سنہ 2011 کی رائے شماری کے مطابق، ہندوؤں کی آبادی میں اضافے کی شرح 16.76 فیصد ہے جبکہ 10 سال پہلے یہ شرح 19.92 فیصد تھی۔

اب اسی کے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی شرح پر غور کریں جو آر ایس ایس کے مطابق گہری تشویش کا سبب ہے۔ ملک میں پہلے مسلمانوں کی آبادی 29.5 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی تھی جو اب کم ہو کر 24.6 فیصد ہو گئی ہے۔

مطلب یہ کہ مسلمانوں کی آبادی کے اضافے میں تقریباً پانچ فیصد کی کمی آئی ہے جبکہ ہندو آبادی کی رفتار تقریباً تین فیصد کم ہوئی ہے۔

یہ بات بالکل سچ ہے کہ روایتی طور پر مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی شرح ہندوؤں سے زیادہ رہی ہے اور آج بھی 16.76 کے مقابلے 24.6 ہے لیکن یہ خوف پھیلانا یا تو جہالت ہے یا پھر سازش کہ مسلم آبادی سنہ 2035 تک ہندوؤں سے زیادہ ہو جائے گی۔

نفرت بھی، نادانی بھی

ہندو آبادی میں اضافے کی شرح میں کمی اگر مسلمانوں سے کم ہے، اور ملک میں تقریباً 97 کروڑ ہندو ہیں تو کس ریاضی سے تقریباً 17 کروڑ مسلمان ان سے آگے نکل جائیں گے؟

یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ مسلمان جان بوجھ کر آبادی بڑھا رہے ہیں یا اس کے پیچھے کوئی مذہبی ریس ہے کہ وہ ہندوؤں سے آگے نکل جائیں، یہ منافرت پر مبنی نادان سوچ کا نتیجہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption در حقیقت مسلم آبادی میں اضافے کی شرح میں گذشتہ دنوں زیادہ کمی واقع ہوئی ہے

وقتِ ضرورت کے حساب سے سنگھ پریوار سے وابستہ لوگ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں، کبھی اس کی وجہ مسلمان عورتوں کا دس بچے پیدا کرنا بتایا جاتا ہے تو کبھی بنگلہ دیشی دراندازی۔

آبادی کا دباؤ ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن سنگھ سے وابستہ لوگ صرف مسلم آبادی کو مسئلہ بتاتے ہیں، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو نہیں، اگر ایسا ہوتا تو بار بار ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کا مشورہ نہیں دیتے۔

بنگلہ دیشی دراندازی بھی ایک حقیقی مسئلہ ہے لیکن اسے روکنے کی کوشش سے زیادہ توجہ اس سے خوفزدہ کرنا ہے۔

بہار اور اتر پردیش کے ہندوؤں میں آبادی بڑھنے کی شرح، کیرلہ اور تمل ناڈو کے مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کی شرح سے دو گنا تک زیادہ ہے۔ تو کیا یہ نتیجہ اخذ کر لیا جائے کہ ان ریاستوں کے ہندوؤں نے ساکشی مہارج جیسے رہنماؤں کی زیادہ بچے پیدا کرنے کی اپیل پر عمل کیا ہے؟

مسلمانوں میں کتنی پسماندگی؟

کیرالہ کی مثال سے واضح ہے کہ وہاں دس سالوں میں مسلمانوں کی آبادی میں صرف 12.8 فیصد اضافہ ہوا، جو قومی اوسط (17.7) سے پانچ فیصد کم، ہندو آبادی میں اضافہ کی شرح (16.7) سے چار فیصد کم اور مسلمانوں کی قومی سطح پر مجموعی ترقی کی شرح (24.6) کا تقریباً نصف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنگھ پریوار کا الزام رہا ہے کہ مسلمان زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں

کیا کیرالہ کے مسلمان کم مسلمان ہیں؟ دراصل، آبادی میں اضافہ کی شرح کئی باتوں پر منحصر ہے جیسے خواتین کی تعلیم، صحت کی سہولیات اور مانع حمل کے ذرائع کا حاصل ہونا، نہ کہ مذہب۔

یہ حکومت کی فائلوں میں بند نہیں، بلکہ ایک کھلا سچ ہے کہ مسلمانوں میں پسماندگی ہے، تعلیم اور روزگار کا فقدان ہے جس کا براہ راست تعلق آبادی میں اضافے سے ہے۔ کاشتکاری اور ہنر کے کاموں میں لگے خاندانوں میں زیادہ بچے عام ہیں کیونکہ جتنے ہاتھ اتنی آمدن۔

یہ سمجھنے کے لیے بہت پڑھا لکھا ہونے کی ضرورت نہیں کہ ملک میں مسلمانوں کی کیا حالت ہے؟ آٹھویں کلاس کی این سی ای آرٹی کی کتاب ’سوشل اینڈ پولیٹکل لائف‘ کا صفحہ نمبر 88 دیکھیے، جو ہندو اور مسلمانوں کی اقتصادی تعلیمی حالت کا مظہر ہے۔

’ملک کے زیادہ تر مسلمان کچی آبادیوں میں رہتے ہیں، ان میں خواندگی کی شرح ہندوؤں سے کم ہے، سرکاری ملازمتوں میں ان کی شرکت آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے۔‘

آٹھویں میں پڑھنے والے جانتے ہیں کہ یہ اعداد و شمار پسماندگی اور نظر انداز کیے جانے کو دکھاتے ہیں، اس سچ کو تبدیل کر پانا ذرا مشکل کام ہے اس کے مقابلے شاید زیادہ آسانی کتابوں میں تبدیلی ہو سکتی ہے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں