دلی یونیورسٹی کے ٹاک شو میں عمر خالد کی شرکت کے خلاف ہنگامہ

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالبِ علم عمر خالد کو کالاج کے یک ٹاک شو میں شریک ہونا تھا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سٹوڈنٹ وِنگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آسا) کے ارکان کے درمیان بدھ کو دہلی یونیورسٹی میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

پہلی جھڑپ دوپہر میں یونیورسٹی کے رام جس کالج کیمپس اور کالج گیٹ کے باہر ہوئی جبکہ دوسری مرتبہ رام جس کالج کے پاس تھانے کے باہر تصادم ہوا۔

* ملک سے غداری کا الزام، یونیورسٹی سے معطل

* کنہیا کمار کا غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال کا اعلان

یہ ہنگامہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالبِ علم عمر خالد کے پروگرام کو منسوخ کیے جانے پر شروع ہوا تھا۔ دلی یونیورسٹی کے رام جس کالج میں عمر خالد اور شہلا رشید کو ایک ٹاک شو میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

عمر خالد جے این یو کے ان پانچ طالب علموں میں سے ایک ہیں جن کے خلاف گذشتہ سال ملک سے بغاوت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان طالب علموں پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک پروگرام میں بھارت مخالف نعرے لگائے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption عمر خالد کے خلاف گذشتہ سال ملک سے بغاوت کا الزام عائد کیا گیا تھا

بی جے پی کا سٹوڈنٹ وِنگ رام جس کالج میں ہونے والے ٹاک شو میں عمر خالد کے شامل کیے جانے کی مخالفت کر رہے تھے۔ بدھ کی شام دونوں تنظیموں نے دعوی کیا کہ ان کے ارکان کو اس جھڑپ میں چوٹیں آئی ہیں. دونوں نے مخالف تنظیم کو تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

اس جھڑپ میں کئی صحافیوں کو بھی چوٹ آئی، بعض خواتین صحافیوں کو بھی جن میں سے ایک ترونی کمار ہیں انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’پولیس کہہ رہی تھی کہ آسا والوں کے پاس اس پروگرام کی اجازت ہے، اے بی وی پی والے ہٹ جائیں اس بات پر پولیس اور اے بی وی پی والوں میں کچھ کشمکش ہوئی اور لگتا تھا کہ وہ بات کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

کچھ ہی دیر میں اے بی وی پی اور آسا کے طالب علموں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہو گئی اور اس دوران خواتین کو بھی نشانہ بنایا گیا اور کئی خواتین صحافیوں پر بھی حملہ ہوا انہیں ریکارڈنگ نہیں کرنے دی گئی۔

ترونی کہتی ہیں، تشدد سے پہلے اے بی وی پی والوں کا کہنا تھا کہ جس کو جتنے کیمرے لانے ہیں لے آئیں لیکن ہنگامہ شروع ہونے پر بہت سے لوگوں کے فون توڑ دیے گئے شاید وہ ریکارڈ میں نہیں آنا چاہتے تھے اور اسی لیے مجھ پر بھی حملہ کیا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دلی یونیورسٹی کے طلبِ علم

اسی بارے میں