مندر میں ساڑھے سات لاکھ ڈالر کے چڑھاوے پر لوگ ناراض

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس چڑھاوے پر سوشل میڈیا میں خاصی ناراضگی کا اظہار کیا گیا

بھارت کی جنوبی ریاست تلنگانا کے وزیر اعلٰی کی جانب سے ایک مشہور مندر میں ساڑھے سات لاکھ ڈالر کی مالیت کا چڑھاوا چڑھائے جانے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

وزیرِ اعلی کے چندر شیکھر راؤ نے بدھ کو ایک نئی ریاست کے قیام کی دس سالہ مہم کی کامیابی کے بعد مندر میں سرکاری فنڈ سے ساڑھے سات لاکھ ڈالر کی مالیت کا سونا چڑھاتے ہوئے بھگوان کا شکریہ ادا کیا۔

سوشل میڈیا پر ان کے اس چڑھاوے پر کافی تنقید کی جا رہی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کے 50 کروڑ کے گھر پر غصے کی لہر

چندر شیکھر راؤ پر گذشتہ سال اس وقت ایسی ہی تنقید کی گئی تھی جب انھوں نے 73 لاکھ ڈالر کی مالیت کا نیا گھر خریدا تھا۔

ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چڑھاوے کا یہ پیسہ تلنگانا کے سرکاری فنڈ سے لیا گیا ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ اس رقم کا استعمال لوگوں کی بہبود کے لیے کیا جانا چاہیے تھا۔

خیال رہے کہ سنہ 2014 میں ریاست آندھرا پردیش سے علیحدہ کر کے ریاست تلنگانا کا قیام عمل میں آیا تھا۔

علاقے کے لوگوں کا خیال تھا کہ انھیں نظر انداز کیا جاتا تھا اس کے لیے مقامی لوگوں نے ایک طویل جدو جہد کی تھی۔

تین کروڑ، 50 لاکھ سے زیادہ کی آبادی والی اس ریاست میں آندھرا پردیش کے سابق دس اضلاع اور حیدرآباد شہر شامل ہے۔

اسی بارے میں