انصاف کی دیوی کا مجسمہ، ڈھاکہ میں مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ supremecourt.gov.bd

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں اعتدال پسند اسلامی گروپ کے ہزاروں حمایتیوں نے سپریم کورٹ کے باہر انصاف کی دیوی کے مجسمے کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔

اعتدال پسند اسلامی گروپ حفاظت اسلام نے مظاہروں میں اس دیوی کے مجسمے کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ اسلام کے خلاف ہے۔ بنگلہ دیش سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر لگائے گئے انصاف کی دیوی کا مجسمہ یونانی دیوی تھیمس سے مماثلت رکھتا ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ ڈھاکہ میں لگائی گئی دیوی نے ساڑھی پہن رکھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ڈھاکہ میں حفاظت اسلام کے حمایتی جمعہ کی نماز کے بعد ڈھاکہ میں واقع مسجد بیت المکرم کے باہر جمع ہوئے اور مظاہرے کیے۔ انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر دیوی کے مجسمے کو نہیں ہٹایا گیا تو ملک بھر میں مظاہرے کیے جائیں گے۔

مظاہرین کے مطابق دیوی کا مجسمہ جو دسمبر میں سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر لگایا گیا ہے بت پرستی کے مترادف ہے۔

مظاہرے میں شریک ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا 'مجسمے یا کسی قسم کے بت پر اسلام میں ممانعت ہے۔ ہمارے مذہب میں کسی قسم کے مجسمے کی جگہ نہیں ہے۔ اس لیے سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر اس مجسمے کی اجازت نہیں دے سکتے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں