انڈیا میں قوم پرستی کے نام پر بڑھتی نفرتیں اور تشدد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کچھ دنوں پہلے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ایک پروفیسر کو ایک پروگرام میں دعوت دینے کے لیے ایک دوسری یونیورسٹی کے کئی اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا

دہلی یونیورسٹی کے معروف رام جس کالج میں گذشتہ دنوں آر ایس ایس کی طلبہ شاخ اکھل بھارتیہ ودھیارتھی پریشد یعنی اے بی وی پی کے اعتراض کے بعد ایک سیمینار کو منسوخ کر دینا پڑا۔

اس سمینار میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کے سکالر عمر خالد کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اے بی وی پی وی کو عمر خالد کو بلائے جانے پر اعتراض تھا کیونکہ ان کی نظر میں وہ ایک ملک دشمن ایکٹیوسٹ ہیں۔

عمر خالد کو انڈیا کی ریاست چھتیس گڑھ کے قبائلی علاقے بستر کے قبائل پر بولنا تھا جو ان کی پی ایچ ڈی کا مضمون ہے۔

Image caption آر ایس ایس اور بی جے پی مذہبی قوم پرستی کی علم بردار ہیں، ان کا نظریہ اعتدال پسند سیاسی، سماجی اور ثقافتی نطریے سے متصادم ہے

عمر خالد پر گذشتہ برس جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک پروگرام کے دوران مبینہ طور پر کشمیر کی آزادی کانعرہ لگانے کا الزام ہے۔ دہلی پولیس نے اس پروگرام کو منعقد کرنے کے لیے کئی طلبہ کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی کئی یونیورسٹیز میں اے بی وی پی اور بائیں بازو سے وابستہ طلبہ کے درمیان بالا دستی کی کشمکش چل رہی ہے۔ اس کشمکش کا ایک اہم پہلو جارحانہ قوم پرستی ہے جس کا استعمال اے بی وی پی اپنے مخالفین کے خلاف کرتی ہے۔ جو ادارے اور طلبہ ان کے نظریاتی دائرے میں نہیں ہیں اور ایک آزادانہ پوزیشن لے کر چل رہے ہیں انھیں ملک دشمن، ماؤ نواز اور جہادی جیسے نام دیے جاتے ہیں۔

یونیورسٹیز میں جس طرح کا ماحول قائم ہوا ہے اس میں کھلی بحث و مباحثے اور اظہار کی آزادی کے راستے بند ہوتے جارہے ہیں۔ ابھی کل ہی ایک کالج نے اے بی وی پی کے نوٹس کے بعد کالچ میں ڈرامے کا ایک فیسٹیول منسوخ کر دیا۔ کچھ دنوں پہلے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ایک پروفیسر کو ایک پروگرام میں دعوت دینے کے لیے ایک دوسری یونیورسٹی کے کئی اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔

Image caption عمر خالد پر گذشتہ برس جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک پروگرام کے دوران مبینہ طور پر کشمیر کی آزادی کانعرہ لگانے کا الزام ہے

داخلی امور کے جونئیر وزیر نے کل اپنی حکومت کے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کے کیمپسز میں بقول ان کے ملک دشمن سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس طرح کے بیانات سے نہ صرف جارحانہ قوم پرستی کو ہوا مل رہی ہے بلکہ یونیورسٹیز میں بحث و مباحثے کے کلچر کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ کشمیر، ماؤ نواز تحریک اور مذہبی دہشت گردی جیسے اہم سوالوں پر کسی طرح کی بحث اور مباحثے اب خطرات سے خالی نہیں ہیں۔

یہ ایک خطرناک لیکن غیر متوقع صورت حال نہیں ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی مذہبی قوم پرستی کی علم بردار ہیں۔ ان کا نظریہ اعتدال پسند سیاسی، سماجی اور ثقافتی نطریے سے متصادم ہے۔

اس وقت ملک میں جو ہو رہا ہے وہ دراصل دو سیاسی نظریوں کا ٹکراؤ ہے۔ بی جے پی جیسے جیسے مضبوط ہو گی اس ٹکراؤ کا دائرہ اور بھی وسیع ہو گا۔ اگر وہ پانچ ریاستوں میں اس وقت جاری انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے تو قوم پرست طاقتیں اور بھی شدت سے اپنے محالفین پر غالب آنے کی کوشش کریں گی۔

لیکن اگر وہ پنجاب اور اتر پردیش جیسی اہم ریاستوں میں شکت کھا گئی تو وہ سیاسی طور پر کافی کمزور ہوگی اور اس کا قوم پرستی کا نظریہ بھی پست ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں