امریکہ: انجینیئر کی ہلاکت پر انڈیا صدمے میں

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption اس واقعے میں ان کے بھارتی دوست آلوک مدسانی اور ایک امریکی شہری زخمی بھی ہوئے

انڈیا نے امریکہ میں ایک نوجوان بھارتی انجینیئر کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے وا‏قعے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے گولی چلاتے وقت نسل پرستانہ باتیں کہیں تھیں۔

سری نواس کوچیوتوالا پر بدھ کی رات کو حملہ ہوا تھا جس کے فوراً بعد ان کی موت ہو گئی تھی۔ اس وقت وہ ریاست کنساس کے اولاتھے بار میں اپنے ایک دوست کے ساتھ موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حملہ آور ایڈم پورنٹن پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے

ایف بی آئی اس قتل کی محرکات پر تفتیش کر رہی ہے تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گولی چلانے سے قبل حملہ آور نے چیخ کر کہا تھا 'میرے ملک سے دفع ہوجاؤ۔'

اس واقعے میں سری نواس کے بھارتی دوست آلوک مدسانی اور ایک امریکی شہری زخمی بھی ہوئے۔ حملہ آور ایڈم پورنٹن پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انڈیا کے ذرائع ابلاغ میں اس خبر کے حوالے سے بحث جاری ہے اور بعض نے اس واقعے کے لیے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شری نواس کوچیوتولا کی بیوی کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر بہت اچھے انسان تھے

شری نواس کوچیوتولا کی بیوی کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر بہت اچھے انسان تھے۔

ان کی بیوہ سنينا دمالا نے امریکی میڈیا سے بات چيت کی۔ انھوں نے کہا: 'مجھے اس حکومت سے جواب چاہیے کہ وہ نفرت کی بنیاد پر ہونے والے اس تشدد کو روکنے کے لیے کیا کرنے جا رہی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اپنے شوہر کے لیے نہیں بلکہ ہر نسل کے ایسے ایشیائی، افریقی، امریکی لوگوں کے لیے یہ سوال اٹھا رہی ہیں جو اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں۔

سنينا کا کہنا تھا: 'میں نہیں جانتی ہوں کہ میں ان کی ماں کو کیا جواب دوں گی کہ کیوں میں ان کے بیٹے کو نہیں بچا سکی۔'

سنينا کا کہنا تھا کہ گولی چلانے کے بعد حملہ آور نے بڑے فخر کے ساتھ ایک بار میں جا کر کہا کہ اس نے دو مسلمانوں کو گولی مار دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنینا اپنے شوہر شری نواس كچيوتولا کے ساتھ

انھوں نے کہا: 'اس نے رنگ کی بنیاد پر کس طرح یہ فیصلہ کیا؟ کیا رنگ یہ بتاتا ہے کہ آدمی مسلمان ہے، ہندو ہے یا عیسائی؟ اور جہاں تک میں اپنے شوہر کو جانتی ہوں وہ بھی یہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے میں انصاف ہو۔'

امریکی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت لوگوں نے اس حملے کا تعلق صدر ٹرمپ کے تارکین وطن کے خلاف دیے جانے والے بیانات سے بتایا ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اس موقف کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

مقامی پولیس نے ابھی تک اس کیس کو ابھ تک نسل پرستانہ حملے کے زمرے میں نہیں شمار کیا ہے۔

شری نواس كچيوتولا اپنے دوست آلوک مدساني کے ساتھ ایک ریستوران میں بیٹھے ہوئے تھے جب ایک گورے امریکی نے ان پر گولی چلائی اور ہسپتال میں کچيوتولا کی موت ہو گئی۔

سنینا کا کہنا ہے کہ وہ یہاں کی حکومت سے یہی کہیں گی کہ انھیں جب وہ چاہیں یہاں آنے کی آزادی ہو جس سے وہ اپنے شوہر کا کامیاب ہونے کا خواب تھا پورا کر سکیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں