'مزید درخت لگائیں': افغان طالبان کے رہنما کا پیغام

طالبان تصویر کے کاپی رائٹ Afghan Islamic Press
Image caption ہبت اللہ اخوندزادہ جو پچھلے سال مئی میں افغان طالبان کے رہنما بنے تھے

افغان طالبان کے رہنما ہبت اللہ اخوندزادہ نے اپنے ایک بیان میں افغان شہریوں اور جنگجوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔

انھوں نے کہا کہ: 'ایک درخت یا کئی درخت لگاؤ، چاہے وہ پھل دینے والا ہو یا نہ ہو، تاکہ یہ زمین خوبصورت بنے اور اللہ کی مخلوق کو فائدہ ہو۔'

’کچلاک مدرسے کا کوئی ذکر نہیں‘

ہبت اللہ اخوندزادہ افغان طالبان کے نئے امیر مقرر

یاد رہے کہ افغانستان میں جگنلات کی کٹائی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ درختوں کو کٹائی کے بعد غیر قانونی طور پر بیچ دیا جاتا ہے یا ان کو سردیوں میں جلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

'درخت لگانے سے ماحول کو تحفظ ملتا ہے، معاشی ترقی پروان چھڑتی ہے اور زمین کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔ درخت لگانے سے اور کھیتی باڑی ایسے کام ہیں جن کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔'

طالبان کی جانب سے ماحولیات پر بیانات ایک حیران کن بات ہے کیونکہ وہ ایسے بیانات شاذ و نادر ہی دیتے ہیں۔

پچھلے سال مئی میں ہبت اللہ اخوندزادہ افغان طالبان کے رہنما منتخب ہوئے تھے اور ان کی وجہ شہرت ایک عسکری ماہر کے بجائے ایک عالم دین کی حیثیت سے زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغان طالبان کے رہنما نے اپنے جنگجوؤں اور افغان شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں

اتوار کے روز آنے والا یہ خصوصی بیان طالبان کے نامزد ذرائع سے آیا تھا اور ان کے عمومی بیانات سے بہت مختلف تھا۔ عام طور پر طالبان بیانات میں افغان حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں یا نیٹو افواج کے خلاف بات کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان افغانستان میں پوست کی کاشت کے لیے زیادہ مشہور ہیں اور ملک کے جن علاقوں میں ان کی حکومت ہے وہاں وہ پوست کی فصل پر ٹیکس لگاتے ہیں۔

امریکی اتحادی فوجوں سے شکست کے بعد افغان طالبان کو مسلسل قومی دہارے میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی رہی ہیں لیکن انھوں نے ابھی تک رضا مندی ظاہر نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں