اترپردیش: ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے پانچویں مرحلے کی پولنگ

ووٹرز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیپال کے ترائی علاقے کی سرحد سے ملحق مشرقی اتر پردیش کے 11 اضلاع میں پولنگ ہورہی ہے

انڈیا کی ریاست اترپردیش کی اسمبلی کے انتخابات کے پانچویں مرحلے میں پیر کے دن 11 اضلاع کی 51 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

یہ ریاستی انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اترپردیش اور پنجاب جیسی ریاستوں کے نتائج 2019 کے پارلیمانی انتخابات کی سمت متعین کریں گے۔

اس مرحلے میں نیپال کے ترائی کے علاقے کی سرحد سے ملحق مشرقی اتر پردیش کے 11 اضلاع میں پولنگ ہوئی جن میں بلرام پور، گونڈا، فیض آباد، امبیڈکر نگر، بہرائچ، شراوستی، سدھارتھ نگر، بستی، سنت كبيرنگر، امیٹھی اور سلطان پور جیسے 11 اضلاع کی 51 نشستیں شامل ہیں۔

امبیڈکر نگر کے آلہ پور میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار چندر شیکھر كنوجيا کے انتقال کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے یہاں ووٹنگ کی تاریخ نو مارچ مقرر کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption اسمبلی انتخابات کے لیے اس بار زبردست مہم چلائی گي ہے

پانچویں مرحلے کی 51 اسمبلی نشستوں پر 617 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے 168 امیدوار کروڑپتی ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز(اے ڈی آر) کے مطابق اس فہرست میں سے سب سے زیادہ 43 کروڑ پتی امیدواروں کا تعلق مایا وتی کی جماعت بہوجن سماج پارٹی سے ہے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے 51 میں سے 38 امیدوار کروڑ پتی ہیں جبکہ سماج وادی پارٹی کے 42 میں سے 32 امیدوار کروڑ پتی ہیں۔ کانگریس کے 14 میں سے سات کروڑ پتی امیدوار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption اجے پرتاپ سنگھ اس مرحلے کے سب سے امیر امیدوار ہیں۔ ان کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے اور وہ گونڈا ضلع کے كرنیل گنچ کی اسمبلی سیٹ پر اپنی قسمت آزما رہے ہیں

اس میں سے 117 امیدواروں پر مجرمانہ مقدمے بھی درج ہیں۔ اس مرحلے میں جن امیدواروں پر نظریں لگی ہیں ان میں سے کچھ اہم اور معروف چہرے بھی ہیں۔

اجے پرتاپ سنگھ اس مرحلے کے سب سے امیر امیدوار ہیں۔ ان کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے اور وہ گونڈا ضلع کے كرنیل گنچ کی اسمبلی سیٹ پر اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

انھوں نے اپنے حلف نامے میں 49 کروڑ روپے کی جائیداد بتائی ہے۔ وہ بہوجن سماج پارٹی سے بی جے پی میں آئے ہیں۔ ان کا مقابلہ سماج وادی پارٹی کے یوگیش پرتاپ سنگھ اور بہوجن سماج پارٹی کے سنتوش کمار تیواری سے ہے۔

امیٹھی کے مہاراجہ سنجے سنگھ کی دوسری بیوی امیتا سنگھ کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر امیٹھی صدر سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ جبکہ سنجے سنگھ کی پہلی بیوی گریما سنگھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنا امیدوار بنایا ہے۔

ان دونوں کے درمیان بھی دلچسپ مقابلے کی توقع ہے۔

Image caption امیٹھی کے مہا راجہ سنجے سنگھ کی دوسری بیوی امیتا سنگھ کانگریس کی امیدوار ہیں جبکہ ان کی پہلی بیوی گریما سنگھ کو بی جے پی نے اپنا امیدوار بنایا ہے

اس بار یو پی میں سات مرحلوں میں اسمبلی کے انتخابات کروائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاقہ چار دیگر ریاستوں کی پولنگ مکمل ہو چکی ہے۔ تمام ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی 11 مارچ کو ہو گی۔

یہ انتخابات اس لیے بھی دلچسپ ہو گئے ہیں کہ 20 کروڑ سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش کی حکمراں جماعت سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان ہونے والے اتحاد کو سخت سیاسی چیلنجوں کا سامنا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں