’داعش، ازبک اور پاکستانی طالبان نے غیر رسمی اتحاد بنا لیا: جنرل نکلسن

جنرل نکلسن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

افغانستان میں نیٹو کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن کا کہنا ہے کہ افغانستان، پاکستان اور دیگر ممالک میں شدت پسندوں کے درمیان اتحاد امریکہ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

جنرل نکلسن نے یہ بات امریکی فوجی ادارے کومبیٹنگ ٹیرر ازم سینٹر میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔

انھوں نے کہا 'القاعدہ جو ایک پرتشدد تنظیم ہے طالبان کے ساتھ رابطے میں ہے اور طالبان حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ اور القاعدہ فی البرصغیر کی بھی مدد کرتے ہیں۔ ان پانچ تنظیموں کا ایک غیر رسمی اتحاد ہے اور یہ ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔'

جنرل نکلسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا دولتِ اسلامیہ، ازبکستان اسلامی موومنٹ اور تحریک طالبان پاکستان نے بھی ایک غیر رسمی اتحاد بنا لیا ہے۔

'ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان تنظیموں نے غیر رسمی اتحاد بنا لیا ہے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک بڑی تشویش ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے مقاصد کسی ملک تک محدود نہیں ہیں۔

'وہ امریکہ اور امریکی اتحادیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے مقاصد رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ ہماری فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔ دیگر تنظیموں پر بھی ہمیں تشویش ہے اور یہ تنظیمیں خطے تک محدود ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ مثال کے طور پر القاعدہ برصغیر اپنی کارروائیاں خطے تک محدود رکھتی ہے۔ 'بہت سی تنظیمیں پاکستان میں موجود ہیں اور کچھ افغانستان میں کارروائیاں کرتی ہیں۔ جیش محمد، لشکر طیبہ کے جنگجو افغانستان میں آ کر لڑتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان اس لیے اہم ہے کہ 'امریکہ کی جانب سے 98 تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اور ان دہشت گرد تنظیموں میں سے 20 تنظیمیں اس خطے میں موجود ہیں۔ ایسا دنیا کے کسی خطے میں نہیں ہے۔'

اسی بارے میں