ریزرویشن کے لیے جاٹوں کی تحریک کا رخ دہلی کی جانب

جاٹ تحریک
Image caption گذشتہ کئي روز سے ہریانہ کے کئی شہروں میں جاٹ پرامن مظاہرہ کر رہے ہیں

انڈيا میں سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں دیگر پسماندہ طبقے (او بی سی) کے کوٹے میں ریزرویشن کا مطالبہ کرنے والے ریاست ہریانہ کے جاٹ جمعرات کو دہلی میں جمع ہورہے ہیں۔

ریزرویشن کے لیے جاٹ برادری نے گذشتہ برس ہریانہ میں ایک جارحانہ تحریک چلائی تھی۔ لیکن اس برس انھوں نے اپنی حکمت عملی میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔

گذشتہ کئی روز سے ہریانہ کے کئی شہروں میں جاٹ پرامن مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ بجلی، پانی کے بل اور حکومت سے ملنے والے قرض کی قسطیں نہ ادا کرکے عدم تعاون کی تحریک بھی چلا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس برس جاٹوں نے اپنی حکمت عملی میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں

تحریک کو دلی تک لانے کے سوال پر آل انڈیا جاٹ ریزرویشن سنگھرش سمیتی کے رہنما یش پال ملک نے کہا: '33 دن سے 10 لاکھ سے زیادہ لوگ دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ جب اس سے کوئی حل نہیں نکلا تو ہمیں مجبورا دہلی میں مظاہرہ کرنے اور گھیراؤ کی حکمت عملی کا اعلان کرنا پڑا۔'

یشپال ملک نے کہا کہ 20 مارچ کو تقریباً 50 لاکھ لوگوں کے دہلی آنے کا امکان ہے۔ یہ تمام لوگ اپنے ٹریکٹر ٹرالی کے ساتھ کھانے پینے کا انتظام کرکے آئیں گے اور اسی سے مرکزی حکومت کی آنکھ کھلے گی۔

وہ کہتے ہیں: 'جب دہلی میں لاکھوں جاٹ اپنے ٹریکٹر ٹرالی کے ساتھ جمع ہوں گے تبھی مرکزی حکومت کو احساس ہو گا کہ ہریانہ میں جاٹوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر کچھ قدم اٹھائے، کیونکہ ریاست اور مرکز میں ایک ہی پارٹی حکومت میں ہے۔'

Image caption ریزرویشن کے لیے جاٹ برادری نے گذشتہ برس ہریانہ میں ایک جارحانہ تحریک چلائی تھی

ریاست میں جاٹ برادری کے ریزرویشن کا معاملہ ابھی ریاستی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔

جاٹوں کے لیے ریزرویشن پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے رویے پر یشپال ملک سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'بی جے پی نے ہریانہ میں جاٹ اور غیر جاٹ برادریوں کے درمیان جھگڑا کھڑا کرنے کا کام کیا ہے۔'

گذشتہ سال اسی ریزرویشن کی تحریک کے دوران ہونے والے تشدد میں جاٹوں کے خلاف کیس درج کئے گئے تھے۔ یشپال ملک کا مطالبہ ہے کہ مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کو واپس لیا جائے اور جیلوں میں بند جاٹ رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ فسادات میں مارے جانے والے جاٹوں کے خاندان والوں کو سرکاری ملازمتیں دی جائیں اور زخمیوں کو معاوضہ ملے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں