’پاک افغان سرحد پر 5000 کنٹینر انتظار میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صنعت و تجارت کے نائب صدر محمد یونس مہمند نے شرکا کو بتایا کہ پاکستانی تاجروں سے ملاقاتوں میں بھی بار بار تجویز پیش کی گئی ہے کہ دو طرفہ تجارت کو سیاسی معاملات سے الگ رکھا جائے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہا۔

افغان صنعت و تجارت کے سربراہ خان جان الکوزی نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحد کی بندش کی وجہ سے سرحد کی دونوں جانب تازہ میووں اور سبزی سمیت دیگر اشیا سے بھرے تقریباً پانچ ہزار کنٹینرز سرحد پار کرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں۔

’سرحد کے اس پار‘ کے عنوان سے دونوں ممالک کے سابق سرکاری افسروں، سفارتکاروں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں کے درمیان کابل میں چند دن قبل ہونے والے مذاکرات میں بات کرتے ہوئے، خان خان الکوزی نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ افغان راہداری مال پاکستان کے راستے لانے والے دو سو پچاس کنٹینرز بھی سرحد کے پاکستانی علاقے میں پھنس گئے ہیں۔

ان مذاکرات میں افغان تاجروں کا اصرار تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات میں سیاست کو تجارت سے الگ رکھنا چاہیے۔

افغان صنعت و تجارت کے سربراہ نے پاکستان اور افغانستان کی باہمی تجارت کے بارے میں مزید اعداد و شمار دیتے ہوئے کہا کہ سرحد کی بندش سے پاکستانی تاجروں کا نقصان بھی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ پاکستانی تاجر تقریباً بیس لاکھ ٹن مال ہر سال افغانستان کے راستے وسطی ایشیا کے ممالک اور روس کو برآمد کرتے ہیں۔

صنعت و تجارت کے نائب صدر محمد یونس مہمند نے شرکا کو بتایا کہ پاکستانی تاجروں سے ملاقاتوں میں بھی بار بار تجویز پیش کی گئی ہے کہ دو طرفہ تجارت کو سیاسی معاملات سے الگ رکھا جائے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہا۔

یونس مہمند کا دعویٰ تھا کہ راہداری تجارت میں مشکلات کی وجہ سے دوطرفہ تجارت بھی متاثر ہوئی ہے اور یہ کہ تین سال میں پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت 2.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.2 ڈالر رہ گیا ہے۔

یاد رہے کہ صدر اشرف غنی کے سال 2014 کے دورہِ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت 5 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

افغان تاجروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ سال 2010 میں کراچی بندرگاہ سے افغان راہداری مال لانے والے کنٹینروں کی تعداد 75 ہزار تھی جو کم ہو کر اب 15 ہزار ہوگئی ہے۔

تاجروں کے بقول نزدیک ہونے کی وجہ سے کراچی بندرگاہ سے تجارت تقریباً 80 فیصد ہے لیکن سرحد کی بار بار بندش اور ماضی میں دیگر مسائل کی وجہ سے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور کسی حد تک تجارت کراچی کے بجائے ایرانی بندرگاہوں کی طرف منتقل ہورہی ہے جو درحقیقت پاکستان کی بہ نسبت لمبا اور مہنگا راستہ ہے لیکن افغان تاجر مجبور ہو رہے ہیں۔

ان کے بقول پاکستان کے وزیر تجارت خرم دستگیر نے اپنے دورہ کابل کے دوران یقین دہانی کرائی تھی کہ راہداری تجارت کے لیے سرحد بند نہیں ہوگی۔

افغانستان کے سابق نائب وزیر تجارت مزمل شنواری کا بھی کہنا تھا کہ راہداری تجارت میں مشکلات کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور 2010 میں 2.5 ارب ڈالرسے کم ہو کر گذشتہ سال 1.8 ارب ڈالر تک رہ گئی ہے۔

مزمل شنواری کا کہنا تھا کہ راہداری تجارت میں کمی کا دوطرفہ تجارت پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔

کراچی میں پاک افغان چیمبرز آف کامرس کے ایک اہلکار سے رابطے پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے راہداری تجارت میں سیاسی کشیدگی سے مزید کمی آئی ہے۔

ان کے مطابق تجارت کے علاوہ سرحد کی بندش سے دونوں جانب آنے جانے عام لوگ، بلخصوص پاکستان میں علاج کے لیے آنے والے افغان اور پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔

مبصرین کے خیال میں افغانستان اور پاکستان کو سرحد پر آمد و رفت بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے کسی نظام پر متفق ہونا پڑے گا کیونکہ تقریباً 2600 کلومیٹر مشترکہ سرحد رکھنے والے ممالک کے درمیان شدت پسندوں کی موجودگی کے الزامات پر کشیدگی شاید لمبے عرصے تک ختم نہ ہوں۔

پاکستان نے 16 فروری کو سیکیورٹی خدشات کے باعث سرحد کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ملک میں حالیہ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے شدت پسند افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں