انڈیا اسرائیل کے قریب تر آرہا ہے

نریندر مودی، بنیامن نیتن یاہو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اپنے اسرائیلی ہم منصب اور وزارت خارجہ کے اہلکاروں کے ساتھ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کو حتمی شکل دینے کے لیے گذشتہ دنوں اسرائیل میں تھے۔

اگرچہ اس دورے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن نئی دہلی میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ دورہ جولائی میں متوقع ہے۔

مودی سے پہلے اجیت ڈوول اسرائیل میں

وزیر اعظم نریندر مودی دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے قیام کے 25 برس مکمل ہونے کے موقع پر تل ابیب کا دورہ کریں گے۔ یہ کسی انڈین وزیر اعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ ہو گا۔ اسے دونوں ممالک میں ایک تاریخی دورہ کہا جا رہا ہے۔

اس دورے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی ماضی کی پالیسیوں سے انحراف کرتے ہوئے اسرائیل کے اپنے اس دورے میں فلسطینی علاقے کا دورہ نہیں کریں گے۔ ان کا یہ دورہ صرف اسرائیل تک محدود ہو گا۔ اس سے پہلے بی جے پی اور کانگریس دونوں کی حکومتوں میں جب بھی انڈیا کے وزیر خارجہ نے دورہ کیا تو وہ دونوں ہی جانب گئے۔

انڈیا کے سابق صدر پرنب مکھرجی جب سنہ 2015 میں اسرائیل گئے تھے تو انھوں نے غرب اردن کا دورہ کیا اور فلسطینی پار لیمان سے خطاب بھی کیا تھا۔

مودی حکومت ابتدا سے ہی ان تعلقات کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی پالیسی کے حق میں تھی۔ انڈیا فلسطینی مملکت کے قیام اور دو مملکت کے اصول کا بہت بڑا حامی رہا ہے۔ موجودہ حکومت بھی فلسطینی مملکت کی حامی ہے اور مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے ایک پر امن حل کی حمایت کرتی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے انڈیا کے تعلقات انتہائی گہرے ہوئے ہیں۔

کارگل کی لڑائی کے بعد انڈیا کے دفاعی نظام میں اسرائیل کا رول بڑھتا گیا ہے۔ انڈیا آج اسرائیل کے دفاعی ساز و سامان خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ سرحدی حفاظتی نظام، قومی سلامتی اور دہشت گردی کے انسداد کے معاملات میں اسرائیل انڈیا کے ساتھ زبردست اشتراک کر رہا ہے۔ ڈیری، بنجر علاقوں میں آبپاشی، زراعت، توانائی اور انجنیئرنگ و سائنس کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اشتراک تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سیاسی اعتبار سے بھارتیہ جنتا پارٹی ابتدا سے ہی اسرائیل کی حامی رہی ہے۔ انڈیا میں ایک طبقہ ایسا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے ٹکراؤ میں اسرائیل کا ہمدرد رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے فطری طور پر بھی تعلقات گہرے ہونے سے دونوں ممالک کی قربت بڑھنے لگی ہے۔ انڈیا نے چند مہینے قبل اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کی قرارداد پر ووٹنگ میں غیر جانبدار رہ کر اسرائیل کی واضح طور پر حمایت کی تھی۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بات چیت کا عمل ختم ہونے، عرب خطے کی غیر یقینی صورت حال اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دو مملکت کے حل کی مخالفت کے بعد انڈیا کی سوچ میں کافی تبدیلی آئی ہے۔

انڈیا کی حکومت اسرائیل سے اپنے تعلقات کو فلسطینی اسرائیل تنازعے کے پس منظر میں نہیں بلکہ ایک عملی اور انتہائی فائدے مند رشتے کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ اسرائیل اور انڈیا حالیہ دنوں میں صرف قریب ہی نہیں آئے بلکہ علیحدگی اور بین الاقوامی تنہائی کے اس دور میں انڈیا امریکہ کے بعد اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی بن کر ابھر رہا ہے۔

انڈیا کا یہ کہنا ہے کہ اسرائیل سے قربت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت نہیں کرتا یا عرب ممالک سے اس کے تعلقات کی نوعیت بدل رہی ہے۔ مودی حکومت نے ان رشتوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کے بجائے انھیں علیحدہ کر دیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی رشتوں میں ایک عملی اور حقیقت پسندانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اسی بارے میں