خلیج فارس میں’ایرانی جہازوں نے امریکی جہاز کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 'چند دن کے دوران ایرانی جہاز متعدد بار امریکی جہاز کے قریب آئے'

اطلاعات کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں حالیہ دنوں متعدد سنگین واقعات پیش آئے ہیں۔

امریکی حکام نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ایرانی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں امریکہ کے میزائل تجربات پر نظر رکھنے والے جہاز کے قریب آئے۔

امریکہ، ایران تعلقات میں کشیدگی کا نیا دور؟

’ٹرمپ نے دنیا کو امریکہ کا اصل چہرہ دکھا دیا ہے‘

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنیچر کو ایرانی پاسدران انقلاب کے بحری جہاز امریکی جہاز کے چھ سو میٹر قریب پہنچ گئے۔

ایک امریکی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں نے امریکی جہاز کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا۔

اہلکار کے مطابق ایرانی بحری جہازوں نے امریکی اور دوسری بحری جہازوں کے درمیان آنے کی کوشش کی۔

امریکی اہلکار کے مطابق وراننگ کے لیے فائرنگ یا روشنی کے گولے نہیں پھینکے گئے جبکہ اس سے پہلے رونما ہونے والے واقعے میں خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی تھی۔

امریکی اہلکار کے مطابق اس طرح کا واقعہ بالکل غیر محفوط اور غیر پیشہ وارانہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خلیجی ملک بحرین میں امریکی نیوی کا پانچواں بحری بیڑا تعینات ہے

امریکی حکام کے مطابق تین دن پہلے ہی ایرانی بحریہ کا جہاز اسی امریکی جہاز کے قریب آیا تھا۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز میں یہ واقعات ایک ایسے وقت پیش آئے ہیں جب گذشتہ ماہ امریکہ نے ایران پر میزائل تجربات کرنے کی وجہ سے پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

دونوں ممالک کے تعلقات میں امریکی صدر ٹرمپ کا عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد کشیدگی آئی ہے۔

گذشتہ برس اگست میں بھی امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا تھا کہ خلیج فارس میں اس کے جنگی بحری جہاز کو اس وقت ایرانی بحری جہاز کو خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی جب وہ اس کے دو بحری جہازوں کے قریب پہنچ گیا۔

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق خلیج میں متعدد سنگین واقعات پیش آئے ہیں اور حالیہ واقعہ ان میں سے ایک ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور اومان کے درمیان ایک تنگ بحری راستہ ہے جو سمندر کے راستے خام تیل کی تجارت کرنے والے تقریباً ایک تہائی ممالک کو ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔

اسی بارے میں