اجمیر دھماکہ کیس: سوامی اسیم آنند سمیت چار ملزمان بری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

راجستھان کی ایک عدالت نے اجمیر میں مشہور صوفی خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ میں بم دھماکے کے معاملے میں سوامی اسیم آنند اور تین دیگر ملزموں کو بری کر دیا ہے۔

عدالت نے تین دیگر ملزموں کو دھماکے کا قصوروار پایا ہے۔

نومبر 2007 میں رمضان کے مہینے میں اجمیر کی درگاہ میں سوا چھ بجے ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے کی تفتیش قومی تفتیشی ادارے این آئی نے کی تھی۔

عدالت نے اس مقدمے میں دیوندر گپتا، بھونیش گپتا اور سنیل جوشی کو دھماکے کا قصوروار قرار دیا ہے۔ سنیل جوشی کا انتقال ہو چکا ہے سوامی اسیم آنند کے علاوہ عدالت نے آر ایس کے سینئر رہنما اندریش کمار کو بھی بری کر دیا ہے۔

اسیم آنند نے اس دھماکے کے بارے میں ابتدا میں مجسٹریٹ کے سامنے ایک اقبالیہ بیان دیا تھا لیکن بعد میں وہ اس بیان سے منحرف ہو گئے۔ این آئی اے نے اس دھماکے میں بعض غیر معروف ہندو تنظیم کا ہاتھ بتایا تھا۔

اسی طرح کے دھماکے حیدر آباد کی مکہ مسجد اور مہاراشٹر کے مالیگاؤں شہر میں ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں بھی بعض ہندو نواز کارکنوں کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔

ہندو رہنما سوامی اسیم آنند بھارت پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے بم دھماکے کے بھی اصل ملزم ہیں۔ یہ مقدمہ بہت سست روی سے چل رہا ہے اور گذشتہ تین برس میں کئی اہم سرکاری گواہ منحرف ہو چکے ہیں۔ اسیم آنند فی الوقت پنجاب کی امبالہ جیل میں قید ہیں۔

اسی بارے میں