ماؤ نوازوں سے روابط پر پروفیسر کو عمر قید

Image caption مہاراشٹرا کی ایک عدالت نے پروفیسر سائیں بابا اور چار دیگر افراد کو 'مجرمانہ سازش اور قوم کے خلاف جنگ کرنے' کے جرائم کا قصوروار پایا۔

مغربی انڈیا کی ایک عدالت نے ایک دانشور اور چار دیگر افراد کو ماؤ باغیوں کے ساتھ روابھ کے الزام میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

دلی یونیورسٹی کے پروفیسر جی این سائیں بابا معذور ہیں اور ویل چیئر کا استعمال کرتے ہیں۔ انھیں 3 سال قبل گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت ضمانت پر رہا تھے۔

ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

انڈیا میں ماؤ نواز باغیوں کا کہنا ہے کہ وپ سوشلسٹ راج، قبائلی عوام کے حقوق اور دیہی علاقوں میں غربا کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

منگل کو مہاراشٹرا کی ایک عدالت نے پروفیسر سائیں بابا اور چار دیگر افراد کو ’مجرمانہ سازش اور قوم کے خلاف جنگ کرنے‘ کے جرائم کا قصوروار پایا۔

اپنے فیصلے میں عدالت کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ وہ (پروفیسر سائیں بابا) جسمانی طور پر معذور ہیں وہ ذہنی طور پر بالکل ٹھیک ہیں اور عمر قید بھی ان کے جرائم کے لیے ناکافی سزا ہے۔‘

پروفیسر سائیں بابا انڈیا کے قبائلی علاقوں میں گئے تھے اور انڈین فوج سمیت حکومت حامی ماؤ نواز ملیشیا کی کارروائیوں کے خلاف انھوں نے ایک معروف انداز میں مہم چلائی تھی۔

انھیں 2014 میں پہلی بار گرفتار کیا گیا اور ان پر الزام تھا کہ وہ کومیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن ہیں۔

اسی بارے میں