اوڑی حملے میں سہولت کاری کے ملزم رہا، جمعے کو پاکستان آئیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اوڑی حملے میں 17 بھارتی فوجی مارے گئے تھے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اوڑی کے مقام پر فوجی اڈے پر حملے میں سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیے گئے دو پاکستانی لڑکوں کو انڈین تفتیشی اداروں نے بےگناہ قرار دے دیا ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کو جمعے کو اٹاری باڈر کے مقام پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

'اوڑی حملہ آوروں کی شناخت کے ثبوت پاکستان کے حوالے'

’انڈین سپاہی کو رضا مند کر کے انڈیا کے حوالے کر دیا گیا‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید کو ستمبر 2016 میں اوڑی میں انڈین فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد پکڑا گیا تھا اور اُن پر حملے میں سہولت کاری کا الزام لگایا گیا تھا۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’اب انڈین تفتیشی اداروں نے دونوں نوجوانوں کو بےگناہ قرار دے دیا ہے اور اُنہیں پاکستان کے حوالے کرنے کے فیصلے سے ہمیں آگاہ کر دیا ہے۔‘

نفیس ذکریا کا کہنا ہےکہ نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد سے اب تک نئی دہلی کا پاکستانی سفارتخانہ انڈیا کے محکمہ خارجہ کے ساتھ رابطے میں تھا۔

اس موقع پر انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے کہا تھا کہ حملہ آوروں کی سرحد پار کرنے میں مدد کرنے والے دو گائیڈز جنھیں مقامی دیہاتیوں نے پکڑا تھا اب زیرِ حراست ہیں۔

ان دونوں لڑکوں سے انڈیا کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے تفتیش کی اور بدھ کو این آئی اے نے ان لڑکوں کے حوالے سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ ’فیصل حسین اعوان اور احسن خورشید دہشت گردی کی اس کارروائی میں ملوث نہیں تھے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دونوں لڑکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی ہیں اور اپنے والدین سے پڑھائی کے سلسلے میں جھگڑے کے بعد غلطی سے سرحد پار چلے گئے تھے۔‘

این آئی اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں لڑکوں کے ’بیانات اور ان کے موبائل اور جی پی ایس کے تکنیکی تجزیے اور واقعاتی شواہد سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان کا اوڑی میں فوجی کیمپ پر حملہ کرنے والوں سے کوئی تعلق تھا۔‘

این آئی اے کے مطابق ان دونوں لڑکوں کو پاکستان واپس بھیجنے کے لیے بھارتی فوج کی 16ویں کور کے ہیڈکوارٹر کے حکام کے حوالے بھی کر دیا گیا ہے جبکہ اوڑی حملے کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔

دوسری جانب احسن خورشید کی والدہ رقیبہ بی بی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج میں بہت خوشں ہوں کیونکہ میرے بچے واپس آ رہے ہیں ۔ میں لاہور جا رہی ہوں جہاں میں اپنے بیٹے احسن اور اس کے دوست فیصل کو وصول کروں گی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں