انڈیا: نوجوان جوڑوں کو پٹائی سے نہ بچانے پر پولیس اہلکاروں کو سزا

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ K RAJESH KUMAR
Image caption اس واقعے پر شہر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کے بعد جمعرات کو ریاستی اسمبلی میں سیاستدانوں نے احتجاج بھی کیا۔

انڈیا کے جنوبی شہر کوچن میں قدامت پسند ہندو قوم پرستوں کے نوجوان جوڑوں کو تنگ کرنے کے واقعے کے بعد سات پولیس اہلکاروں کو اس حوالے سے سزا دی گئی ہے۔

واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شیو سینا کے اراکین شہر میں چہل قدمی کرنے والے جوڑوں کو مار پیٹ رہے تھے اور موقع پر موجود ان پولیس اہلکاروں نے انھیں نہیں روکا تھا۔

اس واقعے پر شہر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور جمعرات کو ریاستی اسمبلی میں سیاستدانوں نے اس معاملے پر احتجاج بھی کیا۔

واقعے کے بعد ایک پولیس انسپکٹر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ چھ دیگر اہلکاروں کو ریاست کیرالہ سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ K RAJESH KUMAR
Image caption چھڑیاں اٹھائے شیو سینا کے اراکین میرین ڈائیو کے مقام پر پیدل چلنے کے راستے پر پہنچے تو انھوں نے 'چھتری تلے پیار' کے خلاف بینر اٹھائے ہوئے تھے۔

وزیراعلیٰ پنارائی وجاین کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برتنے کی وجہ سے سزا دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’جب یہ سب ہوا تو پولیس والوں نے اپنا کام نہیں کیا۔ یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ اس گروہ کی ریاست میں کوئی خاطرخواہ موجودگی نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور انھیں سزا دی جائے گی۔

چھڑیاں اٹھائے شیو سینا کے اراکین میرین ڈائیو کے مقام پر پیدل چلنے کے راستے پر پہنچے تو انھوں نے ’چھتری تلے پیار‘ کے خلاف بینر اٹھائے ہوئے تھے۔

اس مقام پر جانے سے قبل انھوں نے میڈیا کو اپنے منصوبے کے بارے میں بھی مطلع کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں