’حجاب میں بھجن کیوں گایا؟‘ مسلمان خاتون پر شدید تنقید

ہندو خواتین تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا میں ایک مسلمان خاتون کو ٹیلنٹ شو میں ہندوؤں کا مذہبی گیت گانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

کرناٹکہ سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ سوہانا سید موسیقی کے ٹیلنٹ شو 'سا رے گا ما پا' میں حصہ لے رہی ہیں۔

انڈیا: مسلمان طالب علم پر ’داڑھی نہ رکھنے کا دباؤ‘

انڈیا میں مسلمان ہندوؤں سے زیادہ کیسے ہوں؟

فیس بک پر' مینگلور مسلمز' کے نام سے گروپ میں سوہانا پر حجاب میں ہندوؤں کا مذہبی گیت یا بھجن گانے پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔

گروپ میں سوہانا پر مردوں کے سامنے گانے پر مسلمانوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ حجاب لینا چھوڑ دیں اگر وہ اس کا احترام نہیں کر سکتیں۔

مینگلور مسلمز نامی گروپ فیس بک پر 2012 میں بنایا گیا تھا اور حالیہ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مسلمانوں کی آواز کا ذریعہ ہے۔

اس گروپ پر لائیکس کی تعداد 46 ہزار ہے لیکن جب سے مقامی اور چند قومی ٹی وی چینلز نے سوہانا سید کو نشانہ بنانے کی بارے میں خبریں نشر کرنا شروع کی ہیں تو گروپ کو فالو کرنے والوں کی تعداد میں دو ہزار کا اضافہ ہو گیا ہے۔

اس گروپ میں سب سے پہلی کی جانے والی پوسٹ کو ہٹا دیا گیا ہے تاہم اس پوسٹ کے سکرین شاٹس کو دوبارہ پوسٹ کیا جا رہا ہے۔

مینگلور مسلمز نے سوہانا سید کی بارے میں اپنی پہلی پوسٹ کو ہٹا دیا تھا تاہم اس کے بعد کی جانے والی پوسٹ میں کہا گیا کہ ان کا بیان سوہانا سید پر ذاتی حملہ نہیں تھا لیکن اس کے ساتھ انھوں نے سوہانا پر مسلمان برادری سے دغا کرنے اور شو میں ججوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش میں ہندوؤں کا مذہبی گیت گانے کا الزام عائد کیا۔

اس کے علاوہ ٹی وی شو کو غیر اسلامی کہا گیا تاہم سوشل میڈیا پر سوہانا سید کے حق میں بھی بات کی جا رہی ہے۔

اس میں ایک صارف نے لکھا کہ' یہ صفحہ صرف لوگوں کو تقسیم کر رہا ہے، شرم! بہت سارے مسلمان گلوکار ہندوؤں کے مذہبی گیت گاتے ہیں۔جب ہندو قوالی گاتے ہیں تو کسی کو تشویش نہیں ہوتی۔'

ایک دوسرے صارف نے لکھا ہے کہ 'کسی کو دوسرے کی زندگی میں مداخلت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔'

جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ پاکستانی مسلمز مینگلور مسلمز سے زیادہ تحمل مزاج ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں