جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے صدر کو برطرف کردیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سبھی ججوں نے متفقہ طور پر اپنے فیصلے میں پارلیمان کی جانب سے ان کا مواخذہ کرنے کو دورست قرار دیا ہے

جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے ملک کی صدر پارک گن کے مواخذے کو درست قرار دیتے ہوئے انھیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

پارک جنوبی کوریا کی جمہوری طور پر منتخب پہلی رہنما ہیں جنھیں ان کے عہدے سے برطرف کیا گيا ہو۔

سبھی ججوں نے متفقہ طور پر اپنے فیصلے میں پارلیمان کی جانب سے ان کا مواخذہ کرنے کو دورست قرار دیا ہے۔

بدعنوانی کے ایک سکینڈل میں صدر پارک اور ان کی ایک قریبی دوست چوئی سون سل کے ملوث ہونے کی بنا پر پارلیمان نے ان کا مواخذہ کیا تھا۔

ملک کی سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کے آٹھ ججوں نے صدر پارک کو برطرف کرنے سے قبل پارلیمان کی جانب سے ان کے مواخذے کے عمل پر تفصیل سے سماعت کی۔

سرکاری خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق عدالت نے کہا کہ صدر پارک نے خفیہ سرکاری معلومات کو راز رکھنے کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی اہم دستاویزات کو لیک کیا اور اپنی دوست چوئی کو حکومتی معاملات میں مداخلت کی اجازت دے کر قانون کی خلاف ورزی کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدارت کے عہدے سے انھیں برطرف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جنوبی کوریا کو آئندہ مئی تک ایک نئے صدر کو منتخب کرنا ہوگا

چیف جسٹس لی جنگ می نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان کے فعل نے 'جمہوریت کی روح اور قانون کی حکمرانی کو سنگین طور پر طور پر چوٹ پہنچائی ہے۔ صدر پارک گن کو برطرف کیا جاتا ہے۔'

صدارت کے عہدے سے انھیں برطرف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جنوبی کوریا کو آئندہ مئی تک ایک نئے صدر کو منتخب کرنا ہوگا۔

اس فیصلے سے صدر پارک اس استثنیٰ سے بھی محروم ہوچکی ہیں جو بطور صدر ان کو حاصل ہوتا ہے اور اب ان پر بدعنوانی کے خلاف مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے۔

صدر پارک کو گذشتہ دسمبر میں ہی صدارتی ذمہ داریوں سے دسبردار کر دیا گیا تھا اور صدر کے فرائض ملک کے وزیراعظم نبھا رہے تھے۔

صدر پارک کی قریبی دوست چوئی سون سل دھوکہ دہی اور اقتدار کے ناجائز استعمال کے الزامات میں زیر حراست ہیں۔ ان پر جنوبی کوریا کی کمپنیوں سے بھی بھاری رقم بٹورنے کے الزامات ہیں۔

مس چوئی کو اختیارات کے غلط استعمال اور فراڈ کی سازش سمیت متعدد الزامات کا سامنا ہے۔

لیکن دونوں خواتین بدعنوانی سکینڈل کے الزامات سے انکار کرتی رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں