مودی اکھلیش اور راہل سے بڑے’یوتھ آئیکون'

راہل گاندھی اور اکھیلیش یادو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کانگریس اور حکمراں جماعت سماجوادی پارٹی نے اترپردیش میں اتحاد کیا تھا لیکن ان کا تجربہ ناکام رہا

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ریاستی اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بارے میں جو رجحانات سامنے آ رہے ہیں اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ انڈین نوجوان نسل نے اپنی عمر کے رہنماؤں کے مقابلے میں تجربہ کار نریندر مودی کو ترجیح دی ہے۔

ابتدائی انتخابی رجحانات کے مطابق اترپردیش میں راہل گاندھی کی کانگریس اور اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی کے اتحاد کو شدید دھچکا لگا ہے۔

اترپردیش میں بی جے پی جبکہ پنجاب میں کانگریس آگے

سینیئر صحافی سنیتا ایرون کے مطابق یہ واضح ہو گیا ہے کہ اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کے مقابلے نریندر مودی کہیں بڑے 'یوتھ آئیکون' ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: 'سنہ 2014 میں بھی نوجوان طبقے نے نریندر مودی کو پسند کیا اور اب ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اکھلیش-راہل کی محدود مقبولیت ہے اور مودی ان کے مقابلے میں نوجوان طبقے کو اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔'

اترپردیش کے کئی علاقوں میں نوجوان طبقہ اکھلیش یادو کے کام کی تعریف کرتا ہوا بھی نظر آتا ہے لیکن راہل کے ساتھ ملنے سے اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

سینیئر صحافی سمیتا گپتا کے مطابق اکھلیش اور راہل مودی کی جارحانہ تقریر اور 'شمشان' اور 'قصاب' سے منسلک جملوں کا جواب نہیں دے پائے۔

وہ کہتی ہیں، 'بہار میں جب ایسا ہوا تو نتیش اور لالو دونوں نے ٹھیک طریقے سے ٹھوس جواب دیا اور اتر پردیش اور بہار جیسی جگہوں پر سیاسی سطح پر چوکنا ووٹرز تقاریر کو احتیاط سے سنتا، تجزیہ کرتا اور تولتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ MANISH SHANDILYA
Image caption بہار میں بی جے پی کے خلاف اتحاد کامیاب رہا تھا

سنیتا ایرون سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے اتحاد کے فیصلے کو اس وقت کے سیاسی حالات کے پیش نظر درست قرار دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں 'اکھلیش کے سامنے اینٹي- انكمبسي ایک بڑا فیکٹر تھی ساتھ ہی بہوجن سماج پارٹی کی وجہ سے ووٹ کی تقسیم کا ڈر تھا۔'

بہار میں بی جے پی کو ٹکر دینے کے لیے جنتا دل یونائیٹڈ، راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس ساتھ تھے۔ تاہم بہار سے مختلف، اس اتحاد میں راہل گاندھی نے جو چھ سات ریلیاں کی وہ انھی علاقوں میں تھی جہاں کانگریس کے امیدوار میدان میں تھے۔

سمیتا گپتا کے مطابق: 'بہار کا اتحاد مکمل تھا لیکن اتر پردیش میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کو یا تو بی ایس پی یا پھر آر ایل ڈی، پیس پارٹی کو بھی ساتھ ملانا چاہیے تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سماجوادی پارٹی میں انتخابات سے قبل سخت اختلافات نظر آئے تھے

وہ کہتی ہیں کہ سنہ 1993 میں جب ایس پی اور بی ایس پی نے ایک ساتھ الیکشن لڑا تھا تو دلت، یادو، مسلمان اور کافی حد تک پسماندہ ذات بھی اس اتحاد سے ان کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔

سنیتا ایرون کے مطابق کانگریس کو اب بیدار ہونا ہوگا کیونکہ پارٹی اترپردیش میں خود کو دوبارہ زندہ کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ یادو خاندان کے باہمی اختلافات نے بھی ووٹنگ پر اثر ڈالا۔

وہ کہتی ہیں: 'اکھلیش یادو کو سمجھنا ہوگا کہ انھیں پارٹی کے سینیئر رہنماؤں اور خاندان کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کا طریقہ نکالنا ہے۔'

سمیتا گپتا بھی یہ تسلیم کرتی ہیں کہ اکھلیش یادو کو پہلے اپنی پارٹی کو سنبھالنا پڑے گا کیونکہ شیو پال یادو نے کہا تھا کہ مارچ میں وہ اپنی پارٹی بنائیں گے اور اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد اس کا امکان بڑھ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بی جے پی اتر پردیش میں نئی تاریخ رقم کرنے کو ہے جبکہ ان کے کارکنوں میں ہولی سے پہلے ہی جوش اپنے عروج پر ہے

سمیتا کے مطابق کانگریس کے اندر سے بھی مخالفت کی آوازیں اب بلند ہوں گی، 'یہ شکست راہل گاندھی کی قیادت پر سوال اٹھائے گی، یوں معلوم ہوتا ہے کہ پارٹی کے کارکن تو ہیں لیکن انھیں اپنے لیڈر پر یقین نہیں ہے۔'

اتر پردیش اسمبلی کے نتائج کا اثر 2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات پر بھی ہوگا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ٹکر دینے کے لیے کانگریس کو اتحاد کا سہارا لینا ہوگا۔

سنیتا ایرون کہتی ہیں: 'اس ناکام تجربے کے بعد بھی کانگریس، سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد جاری رکھے گی، بلکہ بہوجن سماج پارٹی سے بھی اتحاد قائم کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے کیونکہ انھیں سنہ 2019 کے انتخابات کے لیے زیادہ سے زیادہ حمایت درکار ہوگي۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں