انڈیا کی سیاست مودی کی مکمل گرفت میں

مودی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم مودی نے اترپردیش کے انتخابات میں ایک بار پھر اپنا جادو دکھایا ہے

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں بی جے پی نے غیر معمولی فتح حاصل کی ہے۔ ریاست میں بی جے پی کو دو تہائی سے زیادہ اکثریت سے کامیاب ہوئی ہے۔

اتر پردیش میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بذات خود انتخابی مہم کی قیادت کی تھی اور پارٹی کے صدر امت شاہ نے ان انتخابات کی حمکت عملی وضع کی تھی۔ پارٹی نے یہ انتخابات وزیر اعظم کے نام اور ان کی کاردگی کی بنیاد پر لڑا تھا اور یہ جیت مکمل طور پر وزیر اعظم مودی کے نام لکھی جائے گی۔

بی جے پی نے پڑوسی ریاست اترا کھنڈ میں بھی زبردست کامبابی حاصل کی ہے۔ وہاں کانگریس اقتدار میں تھی۔ سب سے بڑا دھچکہ ‏عام آدمی پارٹی کو لگا ہے۔ عام آدمی پارٹی کو پنجاب میں جیت کی پوری امید تھی۔ ایگزٹ پولز نے اس امید کو مزید بڑھا دیا تھا لیکن ریاست میں کانگریس اقتدار میں آگئی ہے۔

پنجاب میں عام آدمی پارٹی اگرچہ دوسرے مقام پر رہی لیکن پنجاب کی ممکنہ جیت سے وہ جو قومی سیاست میں بڑا کردار ادا کرنے کا خواب لے کر چل رہی تھی، اس شکست سے اسے زبردست دھچکہ لگا ہے۔

Image caption جیت کے بعد بی جے پی کے خیمے میں جشن کا ماحول ہے

ان انتخابات میں سب سے اہم نتائج اترپردیش کے ہیں۔ بی جے پی نے اتنی بڑی کامیابی یہاں کبھی حاصل نہیں کی۔ اس جیت سے اسے پارلیمنٹ کی راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا میں بھی اکثریت حاصل ہو جائے گی جس کے بعد وہ ملک کے قانون میں اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود ترمیم کرنے کی مجاز ہو جائے گی۔

اس جیت سے مودی اور ان کے دیرینہ رفیق اور پارٹی کے صدر امت شاہ کی پوزیشن پارٹی کے اندر اور باہر انتہائی مضبوط ہو گئی ہے۔ ان نتیجوں سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ عوام نہ صرف مودی کی پالیسیوں سے مطمئن ہے بلکہ وہ جو کہہ رہے ہیں ان پر انھیں یقین ہے۔ اب پارٹی کے اندر مودی سے اختلاف کے اظہار کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے مودی کی اس انتخابی جیت اور کسی مؤثر اپوزیشن کی عدم موجودگی کے سبب ان کی حکومت پارٹی کے ہندتوا کے ایجنڈے کو کھل کر اور زیادہ مؤثر طریقے سے نافذ کرنا شروع کرسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیپٹین امریندر سنگھ اور نوجوت سنگھ سدھو نے پنجاب میں کانگریس کو اقتدار میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے

بی جے پی اب ایک ملک گیر پارٹی بن چکی ہے اور اس نے بعض ریاستوں کوچھوڑ کر کانگریس کو تقریباً ہر جگہ سے ہٹا دیا ہے۔ کانگریس سماجوادی پارٹی کے اتحاد کے ذریعے اتر پردیش میں 27 برس بعد اقتدار میں آنے کی امید کر رہی تھی۔ وہاں تو پارٹی کو تباہ کن شکست ہوئی لیکن پنجاب میں اس کی زبردست کامیابی سے اس کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکانات اب بھی باقی ہیں۔ کانگریس نے گوا اور منی پور کی ریاستوں میں بھی بہتر کاردگی دکھائی ہے۔

بھارت کی سیاست اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جب ملک کی سیاست پر ایک طاقتور، فیصلہ کن، مذہب نواز رہنما نریندر دامودر داس مودی کا مکمل کنٹرول ہے۔ مودی کو ملک کے عوام بالخصوص نوجوانوں کی اکثریت اور ملک کے صنعتکاروں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انھیں کسی جانب سے کسی موثر مخالفت کا سامنا بھی نہیں ہے۔ ملک کی سیاست اب پوری طرح مودی کی گرفت میں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں