ریاستی الیکشن سے پہلے پارٹی بدلنا جنھیں راس آ گیا

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AP

انڈیا میں پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں اپنی جماعت چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعت میں جانے والوں کی چاندی رہی۔

پنجاب، اتراکھنڈ سے لے کر اتر پردیش تک میں یہی دیکھنے کو ملا کہ جس نے اپنی سابق پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی کا دامن تھاما اسے جیت بھی ملی۔

یہاں ایسے کچھ امیدواروں کی تعارف کروایا جا رہا ہے جنھوں نے جماعت تبدیل کرنے کے بعد کامیابی حاصل کی.

نوجوت سنگھ سدھو

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سدھو نے کانگریس کے ٹکٹ پر امرتسر سے ریاستی اسمبلی سے انتخاب لڑا اور وہ جیتنے میں کامیاب رہے

پنجاب میں انتخابات سے سابق کرکٹر اور ٹی وی میزبان نوجوت سنگھ سدھو نے کانگریس کا دامن تھاما۔ بی جے پی سے ناراضگی کے بعد سدھو کے عام آدمی پارٹی میں شمولیت کی خبریں بھی گرم رہیں لیکن آخر میں وہ کانگریس کا حصہ بن گئے۔

سدھو نے کانگریس کے ٹکٹ پر امرتسر سے ریاستی اسمبلی سے انتخاب لڑا اور وہ جیتنے میں کامیاب رہے۔ یہی نہیں بلکہ پنجاب میں کانگریس کو اکثریت حاصل ہوئی ہے.

ریتا بہوگنا جوشی

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ریتا بہوگنا جوشی کی بے جی پی میں شمولیت کو کانگریس کے لیے اترپردیش میں بڑا جھٹکا تصور کیا گیا تھا۔

ریتا بہوگنا جوشی اتر پردیش میں کانگریس کی قدآور برہمن لیڈر مانی جاتی تھیں لیکن انتخابات سے ٹھیک پہلے وہ پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو گئی تھیں۔

ان کی بے جی پی میں شمولیت کو کانگریس کے لیے اترپردیش میں بڑا جھٹکا تصور کیا گیا تھا۔

جوشی نے بی جے پی کے ٹکٹ پر لکھنؤ کینٹ سے الیکشن لڑا اور جیتنے میں کامیاب رہیں. انھوں نے ملائم سنگھ یادو کی چھوٹی بہو ارپنا یادو کو شکست دی۔

سوامی پرساد موریا

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption انتخابات سے پہلے موریا نے بہوجن سماج پارٹی کو چھوڑ بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

سوامی پرساد موریا اترپردیش میں بہوجن سماج پارٹی کے نچلی ذات کے بڑے لیڈر تھے۔

وہ اتر پردیش اسمبلی میں بہوجن سماج پارٹی کی جانب سے اپوزیشن لیڈر بھی تھے.

انتخابات سے پہلے موریا نے بہوجن سماج پارٹی کو چھوڑ بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

پرساد موریا تو اپنی نشست پر بڑی سبقت حاصل کر چکے ہیں تاہم بظاہر ان کے پارٹی چھوڑنے کا اثر ان کے بیٹے کی انتخابی مہم پر پڑا ہے جو سماج وادی پارٹی کے امیدوار سے شکست کھا گئے ہیں۔

سوربھ بہوگنا جوشی

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption بی جے پی نے سوربھ کو اتراکھنڈ میں ستارگنج سے ٹکٹ دیا تھا

سوربھ بہوگنا جوشی اتراکھنڈ کے سابق وزیرِاعلیٰ وجے بہوگنا جوشی کے چھوٹے بیٹے ہیں۔

اپنے والد کی بی جے پی میں شمولیت کے ساتھ ہی ان کی بھی بی جے پی میں آمد ہوئی۔

بی جے پی نے سوربھ کو اتراکھنڈ میں ستارگنج سے ٹکٹ دیا تھا اور وہ اس نشست پر کامیاب رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں