منوہر پاریکر گوا کے وزیر اعلیٰ بننے کے لیے تیار، وزارت دفاع سے مستعفیٰ

منوہر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ منوہر پاریکر منگل کی شام کو مغربی ساحلی ریاست گوا کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

انڈین خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے منوہر پاریکر کے حوالے سے لکھا: ’میں نے وزیر دفاع کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے اور اسے وزیر اعظم کے دفتر کو بھیج دیا ہے۔ کل شام اسمبلی کے وزرا کے ساتھ حلف لوں گا۔‘

گوا کی گورنر مردلا سنہا نے اتوار کی رات منوہر پاریکر کو ریاست کا نیا وزیر اعلیٰ مقرر کیا تھا۔

دارالحکومت پنجی میں سینیئر صحافی سندیس پربھدےسائی کے مطابق، گورنر نے اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے پاریکر کو 15 دنوں کی مہلت دی ہے۔

اس سے پہلے اتوار کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے گوا میں حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا تھا اور وزیر دفاع منوہر پاریکر اور وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے گورنر سے ملاقات کی تھی۔

نتن گڈکری نے بتایا تھا کہ منوہر پاریکر جلد ہی وزیر دفاع کا عہدہ چھوڑ دیں گے اور پارٹی کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے دعویدار ہوں گے۔

گوا میں منعقدہ پریس کانفرنس میں نتن گڈکری نے کہا کہ 21 ممبران اسمبلی کی حمایت کی فہرست گورنر کو سونپی جا چکی ہے۔

گڈکری نے کہا کہ حمایت کرنے والی تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ پروگرام طے کیا جائے گا اور حکومت اس کے مطابق ہی کام کرے گی۔

گوا اسمبلی میں 40 نشستیں ہیں. بھارتیہ جنتا پارٹی نے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ کانگریس کو 17 سیٹیں ملی ہیں۔ گوا فارورڈ پارٹی کو تین، مہاراشٹروادی گومتك کو تین اور این سی پی کو ایک سیٹ ملی ہے۔ تین آزاد امیدواروں کو بھی کامیابی ملی ہے۔

اگرچہ کانگریس نے ریاست میں زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں لیکن اسے حکومت سازی کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ کانگریس کے رہنما اور سابق وزیر کابینہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ بی جے پی کی حکومت منی پور اور گوا کے انتخابات کی چوری کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ منی پور میں بھی کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے لیکن واضح اکثریت کی عدم موجودگی میں بی جے پی دونوں ریاستوں میں حکومت سازی کا دعوی کر رہی ہے اور یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ مطلوبہ ہدف حاصل بھی کر لے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں