دہلی میں نیپال کی خاتون کا ریپ کرنے والے ملزمان گرفتار

خواتین کے خلاف تششد تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption مبصرین کا خیال ہے کہ انڈیا میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات عام ہیں اور سخت قوانین کے باوجود ان میں کمی نظر نہیں آ رہی ہے

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں پولیس نے نیپال کی ایک خاتون کے ساتھ ریپ کے معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے ایک افسر نے ریپ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریپ کے اس معاملے کے تمام ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔

نیپال کی رہنے والی خاتون کی طبی جانچ میں ریپ کی تصدیق ہوئی ہے اور میجسٹریٹ کے سامنے خاتون کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔

٭ ’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

٭ انڈیا: گینگ ریپ کی شکایت پر پولیس کے غیرمہذب سوال

اطلاعات کے مطابق یہ واقع دہلی کے پانڈو نگر میں پیش آیا۔ ایک فلیٹ میں نیپالی خاتون کو جبراً شراب پلائی گئی۔ اس کے بعد پانچ لوگوں نے باری باری سے مبینہ طور پر ان کا ریپ کیا اور انھیں گھر میں بند کر کے فرار ہو گئے۔

اس کے بعد خاتون نے پہلی منزل کے اس فلیٹ سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ اس کوشش میں اس کا پیر ٹوٹ گیا۔

پاس سے گزرنے والے لوگوں کو اس نے اپنی آپ بیتی سنائی۔ ان میں سے ایک نے پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہلی گینگ ریپ کے بعد پورے ملک میں سنسنی پھیل گئی تھی اور بڑی تعداد میں مظاہرے ہوئے تھے

پولیس کے مطابق پانچوں ملزمان کال سینٹر میں کام کرتے ہیں۔

خاتون کی شکایت کی بنیاد پر ملزمان پر اجتماعی ریپ، غیر قانونی طریقے سے نظر بند کرنے اور غیر فطری جنسی تعلقات قائم کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

ریپ کا شکار نیپالی خاتون اپنے دو بچوں کے ساتھ جنوبی دہلی میں رہتی ہیں اور وہ ملزمان میں سے ایک کو پہلے سے جانتی تھیں۔

دہلی میں گینگ ریپ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل 16 دسمبر سنہ 2012 میں چلتی بس میں ریپ کے معاملے نے پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی تھی اور پھر ریپ کے متعلق قانون میں سختی لائی گئی تھی تاہم اس میں کمی نہیں دیکھی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں