فلم پدماوتی کے سیٹ پر پھر توڑ پھوڑ

Image caption اس سے پہلے بھی اس فلم کے سیٹ پر حملہ کیا گیا تھا

فلم پدماوتي کے حوالے سے فلمساز سنجے لیلا بھنسالی کی مشکلیں کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔

بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے کولہاپور کے مسعي پٹھار علاقے میں فلم 'پدماوتي' کے سیٹ پر اس بار کچھ نامعلوم افراد نے آگ لگا دی ہے جس میں فلم کا سیٹ جل کر خاک ہوگیا۔

خبر ہے کہ یہ حملہ کولہاپور میں لوگوں کے ایک نامعلوم گروپ نے کیا ہے۔حملہ کرنے والوں نے سب سے پہلے سیٹ پر شوٹنگ کے سامان کے ساتھ توڑ پھوڑ کی اور اس کے بعد پٹرول بم پھینک کر سیٹ کو آگ لگا دی۔

تاہم اس معاملے میں بھنسالی پروڈکشن نے اب تک کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی ہے۔ لیکن کولہاپور پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption اس سے پلے ہونے والے حملے میں سنجے کے ساتھ مارپیٹ بھی کی گئی تھی

واضح رہے کہ جنوری میں جے پور میں بھی 'پدماوتي' کے سیٹ پر 'راجپوت کرنی فوج' کے لوگوں نے توڑ پھوڑ کی تھی اور فلم کے ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ ہاتھ پائی بھی کی تھی، جس کے بعد بھنسالی نے جے پور میں فلم کی شوٹنگ منسوخ کر دی تھی۔

اس کے بعد 'پدماوتي' کی شوٹنگ کے لیے مہاراشٹر کے کولہاپور کے مسعي پٹھار علاقے کا انتخاب کیا گیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق،'منگل کی رات تقریبا دو بجے کچھ لوگ 'پدما وتی' کے سیٹ پر پہنچے پہلے ان لوگوں نے سیٹ پر موجود شوٹنگ کے سامان کی توڑ پھوڑ کی اور بعد وہاں آگ لگا دی۔ اس ہنگامے کے دوران سیٹ پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مار پیٹ بھی کی گئی۔

مہاراشٹر کے وزیِر ثقافت ونود تاوڑے نے اس حملے پر بیان جاری کیا ہے۔

Image caption توڑ پھوڑ کے بعد فلم کے سیٹ کو آگ لگا دی گئی

تاوڑے کے مطابق، 'سنجے لیلا بھنسالی کی فلمیں تاریخی واقعات پر مبنی ہوتی ہیں ایسی فلموں کے حوالے سے معاشرے میں لوگوں کی الگ الگ رائے ہوسکتی ہے اس لیے دونوں فریق کو بات چیت کے ذریعے اس تنازعہ کو حل کرناچاہئیے۔

انکا کہنا تھا کہ 'فلمسازوں کو تاریخی فلمیں بنانے سے پہلے حقائق اور واقعات کی پوری طرح ریسرچ کرنی چاہئیے تاکہ تنازعات کی گنجائش ہی نہ رہے'۔

راجستھان کے کرنی فوج سمیت کچھ اور تنظیموں کا الزام ہے کہ بھنسالی الاؤالدین خلجی کے ساتھ رانی پدمنی کی محبت اور تعلقات پر فلم بنا کر راجپوتوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔

اس سے پہلے کرنی فوج نے بھنسالی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس فلم کی شوٹنگ جہاں بھی ہوگی اس کی مخالفت کی جائے گی۔

اس دھمکی کے بعد بھنسالی اور کرنی فوج کے درمیان کچھ معاہدے کی بھی اطلاع آئی تھی۔