پاکستان میں لاپتہ ہونے والے دونوں انڈین شہری دہلی واپس

  • 20 مار چ 2017
تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar
Image caption آصف نظامی، ناظم نظامی دلی میں انڈین وزارت خارجہ کے دفتر میں سشما سوراج اور دیگر افسران کے ساتھ

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کی معروف درگاہ نظام الدین اولیا کے سجادہ نشین، جو چند روز قبل پاکستان میں 'لاپتہ' ہوگئے تھے، خیرت سے دہلی واپس پہنچ گئے ہیں۔

سجادہ نشین سید آصف علی نظامی اور ناظم علی نظامی 6 مارچ کو کراچی گئے تھے اور پھر اچانک 15 مارچ کو لاہور کے ایئر پورٹ سے لا پتہ ہوگئے تھے۔

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ پاکستان میں لا پتہ ہونے والے دو انڈین شہریوں سے ان کی بات ہوگئی ہے اور وہ پیر تک دلی واپس آجائیں گے۔

پیر کو واپس آنے کے بعد دونوں نے انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی اور پھر میڈیا سے بات چيت میں انھوں نے پاکستان اور انڈيا کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو محبت کا پیغام لے کر پاکستان گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar
Image caption آصف نظامی، ناظم نظامی دلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے

ناظم علی نظامی کا کہنا تھا: 'میں سشما سوارج اور راجناتھ سنگھ کا شکرگزار ہوں جنھوں نے دلچسپی لی اور پاکستان کی حکومت کا بھی شکریہ اور ان کے لیے دعا کرتا ہوں جنھوں نے اس فتنے کو ختم کیا۔'

نامہ نگاروں نے ان سے پاکستان میں ان کی گمشدگی کے متعلق بہت سے سوالات کیے لیکن انھوں نے کسی ایک کا بھی جواب دینا پسند نہیں کیا۔

میڈیا سے بات چیت کے دوران انھوں نے بس ایک پاکستانی جریدے، امت، پر سخت نکتہ چینی ضرور کی اور کہا کہ صدیوں سے بزرگوں نے جو تعلیم دی ہے وہ آج بھی جاری و ساری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سید آصف علی نظامی اور ان کے بھتیجے ناظم علی نظامی دہلی سے پی آئی اے کی پرواز سے کراچی گئے تھے

ان کا کہنا تھا: 'لیکن کچھ خبیث ایسے ہیں جنھیں پیار کی باتیں پسند نہیں ہیں۔ امت اخبار بھی انھیں میں سے ایک ہے جو اس طرح کی محبت کی باتوں کی تشہیر نہیں کرنے دینا چاہتا ہے۔ وہ اس کے اندر مختلف جھوٹے بیانات، فوٹو اور دیگر جھوٹی چیزوں کو شائع کرتا ہے۔'

سید آصف علی نظامی اور ان کے بھتیجے ناظم علی نظامی دہلی سے پی آئی اے کی پرواز سے کراچی گئے تھے۔ دلی میں ان کے بیٹے ساجد نظامی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 80 سالہ آصف نظامی حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ کے سربراہ (سجّادہ نشين) ہیں۔ ان کی سگی بہن کراچی میں رہتی ہیں جن کی عمر 90 سال کی ہے۔ آصف نظامی اپنی بہن سے ملاقات کے لیے کراچی گئے تھے۔ اس سے پہلے اپنی بہن سے ملاقات کے لیے وہ تقریباً 30 سال پہلے پاکستان گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption لاہور میں دونوں نے نظام الدین اولیاء کے استاد بابا فرید کی درگاہ اور ایک دوسری درگاہ داتا دربار پر چادر چڑھائی تھی

کراچی میں ایک ہفتے کے قیام کے کے بعد 13 مارچ کو صبح کی فلائٹ سے دونوں لوگ لاہور گئے تھے۔ وہ وہاں نظام الدین اولیاء کے استاد بابا فرید کی درگاہ اور ایک دوسری درگاہ داتا دربار پر چادر چڑھانے گئے تھے۔

13 اور 14 مارچ کو انھوں نے دونوں درگاہوں پر حاضری دی۔ انھوں نے وہاں سے ساجد نظامی کو وهاٹس ایپ پر تصاویر بھی بھیجی تھیں۔

15 مارچ کو انھیں کراچی واپس آنا تھا۔ لیکن لاہور ایئر پورٹ پر ناظم نظامی کو بورڈنگ پاس لینے کے بعد روک لیا گیا۔ کہا گیا کہ ان سے پوچھ گچھ کرنی ہے تاہم آصف نظامی کو جانے دیا گیا۔

فلائٹ 6 بجے شام کو کراچی پہنچی۔ آصف نظامی نے اپنے بھانجے وزیر نظامی کو فون کیا کہ وہ پہنچ گئے ہیں، ان کو لینے آ جائیں جبکہ ناظم نظامی کو لاہور میں ہی روک لیا ہے۔ بھانجے نے کہا کہ وہ ایئر پورٹ کے باہر کھڑے ہیں۔

آصف نظامی کے بھانجے وزیر نظامی رات کے دو بجے تک ایئرپورٹ پر ہی کھڑے رہے لیکن آصف نظامی باہر نہیں آئے۔

16 مارچ کو سشما سوراج نے ٹویٹ کیا اور بتایا کہ انڈيا کی حکومت نے اس سلسلے میں پاکستان سے رابطہ کیا ہے اور ان سے دونوں بھارتی شہریوں کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں