انڈیا: انصاف کے لیے غیر ملکی رضاکار کا 'تکلیف دہ انتظار'

نرگس اشتری تصویر کے کاپی رائٹ NARGES ASHTARI
Image caption نرگس اشتری نے سنہ 2011 سے انڈیا میں کام کرنا شروع کیا تھا

ایرانی نژاد برطانوی امدادی کارکن نرگس کلباسی اشتری کو ایک بچے کی موت کے سلسلے میں جاری مقدمے کی وجہ سے انڈیا سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

انھیں سنہ 2014 سے انڈیا سے باہر جانے کی اجازت نہیں ملی۔ بی بی سی مانیٹرنگ کی نوشا سلوچ کہتی ہیں کہ ان کے معاملے نے امدادی کارکنوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

ایران کا میڈیا اشتری کو ایک مہربان خاتون کہتا ہے جنھوں نے اپنی زندگی کو بے سہارا اور مستحق بچوں کے لیے وقف کر دیا ہے۔

٭ انڈیا: برطانوی خاتون کے قتل کے بعد گرفتاری

٭ نصف صدی سے انڈیا میں پھنسا چینی فوجی

ایران میں ان کی حمایت میں بہت سے سوشل میڈیا پیج تیار کیے گئے ہیں اور ان کی 'رہائی' کے لیے وزارت خارجہ کے نام کھلا خط پوسٹ کیا گیا ہے جس پر معروف اداکاروں، مشاہیر اور وکیلوں کے دستخط ہیں۔

ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ وہ انڈیا میں غریب بچوں کے لیے کام کر رہی تھیں لیکن مقامی سیاست کا 'شکار' ہو کر رہ گئیں۔

لیکن انڈیا کی مشرقی ساحلی ریاست اڑیسہ کے رائے گڈھا ضلعے میں بعض افراد کے مطابق وہ بیرونی ممالک کی امدادی کارکن تھیں جن کے سبب ممکنہ طور پر ایک بچے کی موت واقع ہوئی ہے۔

28 سالہ اشتری کو ایک بچے کی موت کے لیے ایک سال قید کی سزا ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ بچے کی موت اس پکنک کے دوران ہوئی تھی جس کا انھوں نے اہتمام کیا تھا۔ انھوں نے سزا کے خلاف اپیل کی ہے اور ابھی وہ ضمانت پر رہا ہیں۔

اس ماہ کے اخیر میں ان کے مقدمے کی سماعت ہے اور وہ بچے کی موت میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ قبائلی سیاست اور بدعنوانی کے چکر میں پھنس گئی ہیں۔

انھوں نے چینج ڈاٹ اورگ پر لکھا: ’میں بدسلوکی کی انتہائی دہشت ناک شکلوں سے گزری ہوں جو انتہائی طاقتور، بااثر اور تحفظ یافتہ افراد کے گروہ نے مجھ پر ڈھائی ہے۔‘

ان کی اس عرضی پر سینکڑوں افراد نے دستخط کیے ہیں۔ رضاکا خاتون نے کہا کہ انڈیا میں کام کرنا ان کا خواب تھا لیکن انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس ملک میں ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

یہ معاملہ پانچ سالہ عاصم جلکرا کی موت کا ہے جو ایک دریا کے کنارے اشتری کی پکنک کے بعد سے لا پتہ ہو گیا۔ اشتری نے کہا کہ اس کے والدین نے بچے کی موت کے بارے میں پولیس کو ایک بیان دیا تھا لیکن ایک ماہ بعد انھوں نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی جس میں اس بات پر ان کا زور تھا کہ اشتری نے بچے کو دریا میں پھینک دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NARGES ASHTARI
Image caption نرگس اشتری کا کہنا ہے کہ وہ مقامی قبائلی سیاست کا شکار ہیں

بچے کی ماں انجنا جلکرا نے کہا: ’نرگس نے دانستہ طور پر میرے بچے کو مارا ڈالا۔ انھوں نے اس دن مجھے کھانا پکانے کے لیے کہا۔ کھانا پکانے کی جگہ ندی سے بہت دور تھی۔ نرگس نے شراب پی رکھی تھی۔ اس نے میرے بچے کو ندی میں پھینک دیا۔ اس نے میرے بچے کو میرے سامنے مار دیا۔‘

مز اشتری نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچہ ان کی فاؤنڈیشن کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہی ان کی نگہداشت میں تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس معاملے میں پھنسایا جا رہا ہے کیونکہ انھوں نے قبائلیوں اور سرکاری افسروں کو رشوت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

لیکن ایک مقامی عدالت نے انھیں موت کا ذمہ دار قرار دیا اور انھیں تین لاکھ روپے کا جرمانہ ادا کرنے کے لیے کہا۔

عدالت نے کہا کہ اشتری نے ایک 'خطرناک' جگہ پر پکنک کا اہتمام کیا تھا۔ لیکن ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ عدالت نے بچے کے والدین کے بیان پر زیادہ بھروسہ کیا۔

اشتری نے پولیس اور مقامی انتظامیہ پر قبائلیوں کی کھلے عام حمایت کا الزام لگایا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ لوگوں کو ان پر حملے کے لیے اکسا رہے ہیں۔

لیکن رائے گڈھا کے ایس پی شوا سبرامنی نے بدعنوانی کے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا: ’ان کے خلاف وافر شواہد ہیں۔ اگر پولیس بدعنوان ہے تو یہ بات انھوں نے سماعت کے دوران عدالت میں بتائی ہوتی۔‘

اشتری کی پیدائش ایران میں ہوئی تھی اور جب وہ چار سال کی تھیں تو برطانیہ چلی گئیں پھر اپنے والدین کے انتقال کے بعد اپنے دو بھائیوں کے ساتھ اپنی خالہ کہ یہاں کینیڈا چلی گئیں۔

انھوں نے سنہ 2011 میں اڑیسہ کا دورہ کیا اور وہاں یتیموں کے لیے ’پریشان‘ نامی فاؤنڈیش قائم کی۔

ایرانی اور برطانوی وزارت خارجہ اس معاملے میں ان کی امداد کر رہے ہیں۔ فی الحال اشتری حیدرآباد دکن میں ایرانی قونصل خانے میں ہیں اور نادار بچوں کو انگریزی پڑھاتی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ وہ انڈیا کے حکام کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ اشتری کو تمام مشکلات سے فوری رہائی حاصل ہو۔ تاہم ابھی تک اشتری کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں مل سکی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں