انڈیا کی عدالت نے دریائے گنگا اور جمنا کو انسانی حیثیت دے دی

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے دو مقدس دریا جمنا اور گنگا کو عدالت کے فیصلے کے بعد ’انسان‘ تصور کیا جائے گا

شمالی انڈیا کی ریاست اتر کھنڈ میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق انڈیا کے دو قدیم اور مقدس دریاؤں، گنگا اور جمنا کو 'زندہ انسان' تصور کیا جائے گا۔

عدالت نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ان دریاؤں کا 'تحفظ' ممکن ہو سکے گا اور قانونی حیثیت ملنے کے بعد ان میں ہونے والی آلودگی سے بچاؤ ممکن ہوگا کیونکہ اب ان میں آلودگی کرنا ایک انسان کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔

واضع رہے کہ انڈیا میں اکثریت ہندو آبادی کے مطابق یہ دونوں دریا مقدس دیوییوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہندوؤں کو ان دریاؤں پر پختہ ایمان ہے اور وہ خود کو ان سے جڑا ہوا تصور کرتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا: 'ہندوؤں کے نزدیک یہ دونوں دریا ان کی زندگیوں میں اور ان کی صحت کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ان دریاؤں نے ازل سے ہندوؤں کو جسمانی اور روحانی رزق پہنچایا ہے۔'

عدالت نے مزید کہا کہ شہری آبادی بڑھنے سے دونوں دریاؤں کی آلودگی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔

ریاست کے دو افسران کو گنگا اور جمنا کا 'قانونی محافظ' مقرر کیا گیا ہے جو ان دریاؤں کے حقوق کا دفاع کریں گے۔

سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی مدد سے ان دریاؤں کی صفائی میں تیزی آسکتی ہے۔

یاد رہے کہ ایک ہفتے قبل نیوزی لینڈ میں بھی وہان گانیئوی دریا کو انسانی حیثیت دی گئی تھی جو کہ دنیا میں پہلا ایسا موقع تھا جب کسی دریا کو قانونی طور پر انسان تصور کیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں