انڈیا: اجمیر دھماکے کے دو مجرموں کو عمر قید کی سزا

اجمیر دھماکہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اجمیر دھماکے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے

انڈیا کے شہر اجمیر کی درگاہ پر سنہ 2007 میں ہونے والے دھماکے میں مجرم ٹھہرائے جانے والے دو افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

قومی جانچ ایجنسی نے (این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے ریاستی دارالحکومت جے پور میں بدھ کو دیویندر گپتا اور بھاویش پٹیل کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

٭ اجمیر دھماکہ کیس: سوامی اسیم آنند سمیت چار ملزمان بری

سنہ 2007 کے اس دھماکے میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے اور 17 افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکے سنہ 2007 میں 11 اکتوبر کو رمضان کے مہینے میں ہوئے تھے۔

چھ مارچ کو اس معاملے میں خصوصی عدالت نے تین افراد دیویندر گپتا، بھاویش پٹیل اور سنیل جوشی کو مجرم قرار دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق دیویندر گپتا اور سنیل جوشی آر ایس ایس کے سابق کارکن رہ چکے ہیں۔

تینوں کو این آئی اے کورٹ نے بم نصب کرنے اور مذہبی جذبات بھڑکانے کے الزام میں قصوروار ٹھہرایا ہے۔ دیویندر گپتا اور بھاویش پٹیل کو عدالتی حراست میں لے لیا گیا تھا جبکہ سنیل جوشی کی دھماکے کے بعد پراسرار طور پر موت ہو گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption اسیمانند نے پہلے کئی بم دھماکوں کا الزام اپنے سر لیا تھا لیکن پھر وہ اپنے بیان سے پھر گئے

اس صورت میں اسیمانند، چندرشیکھر لیوے، مکیش وسانی، بھارت موہن رتیشور، لوکیش شرما، میہل کمار اور ہرشد سولنکی کو رہا کر دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سریش نائر، سندیپ ڈانگے اور رام چندر کو مفرور قرار دے دیا گیا ہے۔

پہلے این آئی اے نے اس دھماکے کے لیے اسیمانند کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا، لیکن جے پور کورٹ نے اسیمانند اور دیگر کو وافر ثبوت کی عدم موجودگی میں رہا کر دیا تھا۔ اس صورت میں کورٹ نے آر ایس ایس کے سینیئر عہدیدار اندریش کمار کو بھی بری کر دیا تھا۔

سنہ 2011 میں اسیمانند نے مجسٹریٹ کو اپنے اقبالیہ بیان میں کہا تھا کہ اجمیر کی درگاہ، حیدرآباد کی مکہ مسجد اور دیگر کئی مقامات پر ہونے والے بم دھماکوں میں ان کا اور دوسرے ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ تھا۔ بعد میں وہ اپنے بیان سے منکر ہو گئے اور اسے این آئی اے کے دباؤ میں دیا گیا بیان بتایا گیا۔

اس کیس میں دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب بھاویش کمار نے الزام لگایا کہ ان پر کانگریس رہنما دگ وجے سنگھ اور سابق وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے آر ایس ایس کے سینیئر لیڈر موہن بھاگوت اور اندریش کمار کا نام لینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں