انڈیا میں مسلمان رہنما اسد اویسی نے کہا کہ یوگی ادتیہ ناتھ خدا نہیں ہیں

Image caption اس سے پہلے اس مسئلے پر کئی بار مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں

رام مندر بابری مسجد تنازعہ سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے مشورے پر کہ تمام فریق مل کر اس مسئلہ کو سلجھانے کی کوشش کریں آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے کہا کہ، بابری مسجد رام مندر تنازع پر اب بات چیت کی کوئی صورت نہیں بچی ہے اور اس بارے میں سات بار مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔

بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں اویسی کا کہنا تھا کہ عدالت عظٰمی جو فیصلہ سنائےگی وہ تمام فریقین کو قبول کرنا ہوگا۔

حال ہی میں ملک کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ رام مندر بابری مسجد تنازع کو تمام فریق مل کر سلجھانے کی کوشش کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چھ دسمبر 1992 کو ایودھیا میں متنازعہ رام جنم بھومی بابری مسجد میں کارسیوکوں نے توڑفوڑ کی تھی

بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی نے قانون بنا کر رام مندر بنانے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ 2018 میں جب بی جے پی راجیہ سبھا یعنی ایوانِ بالا میں اکثریت میں ہوگی تو قانون بنا کر رام مندر کی تعمیر کی جائے گی۔

اس پر اویسی نے کہا، 'کسی بھی حکومت کو اگر اکثریت ملی ہے تو اسے قانون کے مطابق فیصلہ لینا چاہئے اگر وہ ایسا نہیں کرتی ہے تو عوام اس کی مخالف ہو جائے گی۔ اندرا گاندھی کے وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا '۔

انہوں نے کہا، سبرا منیم سوامی مایوسی کا شکار ہیں، انہیں اعتماد نہیں، جمہوریت کے نام پر سوامی بلیک میل نہیں کر سکتے۔ اگر سپریم کورٹ نے کل رام مندر کے خلاف فیصلہ دے دیا تو سبرا منیم سوامی کیا کریں گے۔

Image caption اویسی نے کہا کہ رام مندر کا مسئلہ ملکیت سے جڑا ہوا ہے

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اکثریت میں آنے والی حکومت جو کچھ بھی کرے گی وہ صحیح ہی ہوگا، 'حکومت آئین کے دائرے میں رہ کر کوئی بھی فیصلہ کر سکتی ہے، اس سے باہر نہیں'۔

اویسی نے کہا کہ رام مندر کا مسئلہ ملکیت سے جڑا ہوا ہے اور اس پر قانون نہیں بنایا جا سکتا ۔ اس کا فیصلہ عدالت میں ہی ہوگا۔

کہا جا رہا ہے کہ مسلمانوں نے یوپی کے انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا اس پر اویسی کا کہنا تھا کہ مسلم خواتین نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، اگر ہو تو سامنے لائیں'۔

انہوں نے کہا کہ اگر مسلم خواتین کا ووٹ حاصل کرنے کا دعوی کیا جا رہا ہے تو بی جے پی نے کسی مسلمان عورت کو ٹکٹ تک کیوں نہیں دیا۔

اویسی کی پارٹی نے یوپی انتخابات میں اس بار 35 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے، لیکن کوئی بھی امیدوار کامیاب نہیں رہا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مستقبل میں وہ برہمن جماعتوں سے ہاتھ مِلائیں گے تو اویسی نے کہا، 'پہلے ہمیں اپنی طاقت دکھانی ہوگی تبھی تو کوئی ہمارے ساتھ آئے گا'۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ یوپی میں کیا یوگی آدتیہ ناتھ طاقت کا مظاہرہ کریں گے؟ ان کا کہنا تھا، 'یوگی وزیر اعلٰی ہیں، کوئی خدا نہیں'۔

اویسی نے کہا کہ اگر بھارت کے لوگ اکثریت والی حکومت کے تمام اقدامات کو درست ماننے اور ٹھہرانے لگیں گے تو بھارت کا ’پلورل ازم‘ ( تکثریت) ختم ہو جائے گا۔