یوپی: یوگی کی حکومت آتے ہی مذبح خانے بند ہونا شروع

گائے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یو پی میں سبھی قسم کے گوشت کی فراہمی بہت مشکل ہوتی جا رہی ہے

انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے آتے ہی بہت سے مذبح خانے بند ہونے شروع ہو گئے ہیں جس سے اس شعبے میں کام کرنے والے افراد اور کئی دیگر شعبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

ریاست کے وزير اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سخت گیر ہندو نظریات کے حامل رہنما ہیں جن کی حکومت نے آتے ہی ان مذبح خانوں کو بند کرنے کا فرمان جاری کیا تھا جن کے پاس قانونی لائسنس نہیں ہیں۔

اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ تقریباً سبھی قسم کے گوشت کی فراہمی بہت مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

ملک کے ذرائع ابلاغ نے یہ خبر سہ سرخیوں میں شائع کی تھی کہ لکھنؤ میں کباب کے لیے معروف ہوٹل 'ٹنڈے کبابی' گوشت نہ ملنے کی وجہ سے وقتی طور پر بند ہو گیا۔

دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا اور غازی آباد میں بھی حکام نے ایسی تمام دکانوں کو بند کر دیا ہے جن کے پاس لائسنس نہیں ہے۔

ان افراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چکن، مٹن اور مچھلی کی ان دکانوں کے بند ہونے سے اس شعبے میں کام کرنے والے بہت سے لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔

Image caption غازی آباد میں بند ہونے والی گوشت کی منڈی

اس طرح کی خبریں یو پی کے مختلف علاقوں سے مسلسل آرہی ہیں۔ لکنھؤ میں بی بی سی کے نامہ نگار سمیر آتمن مشر کا کہنا ہے کہ اس سے جنگل میں گوشت خور جانوروں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔

ضلع اٹاوہ میں واقع 'لائن سفاری' کے شیروں کو کھانے کے لیے گوشت کی کمی ہے۔ شیروں کا پیٹ بھرنے کے لیے بھینسے کا گوشت دیا جاتا تھا جنھیں اب زندہ رکھنے کے لیے بکرے کے گوشت پیش کیا جاتا ہے۔

اٹاوہ سفاری پارک کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر انیل کمار پٹیل کا کہنا ہے کہ 'سفاری پارک میں آٹھ شیر ہیں جنہھں کھانے کے عام طور پر بھینس کے بچوں کا گوشت دیا جاتا رہا ہے۔ لیکن دو تین دن سے اس طرح کے گوشت کی دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے شیروں اور ان کے بچوں کو بکرے اور مرغ کا گوشت دیا جا رہا ہے۔'

Image caption شیروں کا پیٹ بھرنے کے لیے بھینسے کا گوشت دیا جاتا تھا جنھیں اب زندہ رکھنے کے لیے بکرے اور چکن کا گوشت پیش کیا جاتا ہے

پٹیل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مسئلہ صرف اٹاوہ کا ہی نہیں ہے بلکہ لکھنؤ اور کانپور جیسے شہروں میں واقع چڑیاگھروں کے شیر بھی ایسے ہی مسائل سے دو چار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل سے نمٹنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

سفاری میں شیروں کے لیے گوشت سپلائی کرنے والے ٹھیکیدار حاجی نظام کا کہنا ہے کہ مذبح خانے بند ہونے سے بھینس کا گوشت نہ مل پانے کی وجہ سے شیروں کے لیے ہر روز 50 کلو بکرے کا گوشت بھیجا جا رہا ہے جسے ہر روز مہیا کر پانا بہت مشکل ہو رہا ہے۔

حاجی نظام کے مطابق: 'اس سے ہمیں بہت خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن شیروں کو بھوکے مرنے سے بچانے کے لیے ہم بکرے کا گوشت فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ ایسا کتنے دن تک کر پائیں گے۔ ہماری اپیل ہے کہ ریاستی حکومت کم از کم ان شیروں کے لیے تو بھینس کا گوشت فراہم کرنے کی اجازت دے دے۔'

اتر پردیش میں قصاب خانوں کے خلاف کی جا رہی کارروائی سے گوشت کے کاروبار پر انحصار مسلمان ہی نہیں، بلکہ دلتوں کی روزی روٹی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

Image caption مذبح خانوں اور چمڑے کی صنعت سے مسلمانوں کے علاوہ دلتوں کی بھی ایک بڑی آبادی بھی وابستہ ہے

مذبح خانوں اور چمڑے کی صنعت میں مسلمانوں کے علاوہ دلتوں کی بھی ایک بڑی آبادی بھی وابستہ ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے غازی آباد سمیت کئی علاقوں کے مذبح خانے بند کر دیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انھوں نے پولیس کو ہدایات دی تھیں کہ 'غیر قانونی' مذبح خانوں کو بند کیا جائے۔

میرٹھ یونیورسٹی کے پروفیسر ستیش پرکاش نے بی بی سی کو بتایا: 'مذبح خانے بند ہونے کا سب سے زیادہ اثر دلتوں پر پڑے گا۔ چمڑے کام دلتوں کا آبائی کاروبار ہے، جو وہ صدیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے بند ہونے سے بڑی تعداد میں دلتوں کی روزی روٹی ماری جائے گی۔'

محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے 75 قانونی مذبح خانوں میں سے 38 ریاست اترپردیش میں ہیں اور اس میں دلتوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں