انڈیا: عملے کے رکن کو چپل سے مارنے پر شیو سینا کے رہنما پر پانچ ایئرلائنز کی پابندی

روندر گائيکواڈ تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سختگیر ہندو جماعت شیو سینا کے رہنما روندر گائیکواڈ پر ایئر انڈيا کے ایک سینیئر افسر کو چپل سے مارنے کا الزام ہے۔

انڈيا میں فیڈریشن آف انڈین ایئر لائنز نے انڈین ایئر لائنز کے ایک ملازم کے ساتھ مار پیٹ کرنے کی وجہ سے شیو سینا سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان روندر گائیکواڈ پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

ایئر لائنز کی فیڈریشن نے مذکورہ رکن پارلیمان کو جہاز میں سفر کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سخت گیر ہندو جماعت شیو سینا کے رہنما روندر گائیکواڈ پر ایئر انڈيا کے ایک سینیئر افسر کو چپل سے مارنے کا الزام ہے۔

ایئر انڈیا اور فیڈریشن آف انڈین ایئر لائنز (ایف آئی اے) نے ایک بیان جاری کرکے اس کا اعلان کیا ہے۔

ایئر انڈیا کے جنرل مینیجر جی پی راؤ نے میڈیا سے بات چیت میں کہا: 'ہماری فلائٹ پر ان کی ایک بکنگ تھی لیکن اس فیصلے کے بعد کہ انھیں جہاز میں بیھٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ان کا ٹکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔'

ان کا کہنا تھا: 'مسافروں کی سکیورٹی کے مد نظر انھیں بلیک لسٹ کیا گيا ہے اور اس کے تحت اب وہ ایئر انڈيا اور دیگر فلائٹس پر سفر نہیں کر سکیں گے۔ یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گيا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ فیصلہ سرکاری ایئر لائن ایئر انڈيا، نجی ایئر لائنز انڈی گو، جیٹ ایئر ویز، سپائس جیٹ اور گو ایئر نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک رکن پارلیمان گائیکواڈ معافی نہیں مانگتے اس وقت انھیں فلائٹس پر پرواز کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سبھی نے گائیکواڈ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایف آئی اے کے ایسو سی ایٹ ڈائریکٹر اجول ڈے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی ملازم پر حملہ ایئر لائںز کے سبھی ملازمین پر حملہ ہے۔

ایف آئی اے نے کہا: 'ہمارے خیال سے یہ کارروائی ایک مثال ہو گی تاکہ آگے کوئی ہمارے ملازمین کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہ کرے۔ یہ لوگوں کے تحفظ کے حق میں ہے۔ ہم ایسے مسافروں کو 'نو فلائی' لسٹ میں ڈالنے کی تجویز دیتے ہیں۔ ایسے مسافروں کا ہم استقبال نہیں کریں گے اور ہمیں اس معاملے میں حکومت کے ساتھ ساتھ سیکورٹی ایجنسیوں کی بھی مدد چاہیے۔'

ادھر رکن پارلیمان روندر گايكواڈ نے ایئر انڈیا کے افسر پر حملے کرنے کو تسلیم کیا لیکن معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے۔

گائیکواڈ پر الزام ہے کہ انھوں نے ایئر انڈیا کے منیجر پر ہوائی جہاز میں حملہ کیا۔ حملے کے بعد انھوں نے خود بتایا کہ انھوں نے اس افسر کو چپّل سے 25 بار مارا تھا۔ وہ ایک ویڈیو اس واقعے کو بڑے فخر سے بیان کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

گائیکواڈ کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ ایئر انڈیا کے مینیجر نے زیادتی کی تھی۔ مہاراشٹر میں عثمان آباد سے ممبر آف پارلیمنٹ گائیکواڈ فلائٹ میں بزنس کلاس کا ٹکٹ نہ ملنے سے کافی ناراض تھے۔

وہ پونے سے دہلی آ رہے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فلائٹ میں کوئی بزنس کلاس کی سیٹ نہیں تھی اور اس کی اطلاع ان سے پہلے ہی دے دی گئی تھی۔

گائیکواڈ اس سے خوش نہیں تھے۔ جب فلائٹ دہلی پہنچی تو انھوں نے اترنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ڈیوٹی مینیجر شیو کمار کیبن میں پہنچے اور انھوں نے ان کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران گائیکواڈ نے ان پر حملہ کر دیا۔

ایئر انڈیا کے ملازم نے اپنی شکایت میں لکھا ہے کہ اس ملک کو خدا ہی بچا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات