جیکٹ، بریف کیس اور داستانِ محبت

جیکٹ اور سوٹ کیس تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY THE PARTITION MUSEUM, TOWN HALL, AMRITSAR
Image caption دو مہاجروں کی سب سے قیمتی متاع

ایک انوکھی داستان جس میں دو بےحد عام چیزیں ہیں، ایک عام سی جیکٹ اور دوسرا چمڑے کا بریف کیس۔

یہ چیزیں اس عورت اور مرد کی ہیں جو متحد ہندوستان کے غیر منقسم پنجاب میں رہتے تھے اور جب 1947 میں تشدد پھوٹ پڑا، اسی وقت ان کی منگنی ہوئی تھی۔

جب انڈیا اور پاکستان وجود میں آئے تو برصغیر کے طول و عرض میں خونی فسادات پھوٹ پڑے جن میں دس لاکھ سے زیادہ افراد مارے گئے جب کہ کروڑوں بےگھر ہو گئے۔

اس دوران پنجاب بھی تقسیم ہوا۔ اس کا مغربی حصہ پاکستان کے حصے میں آیا جب کہ مشرقی حصہ انڈیا کو ملا۔ یہ جوڑا جس کی حال ہی میں منگنی ہوئی تھی، سکھ تھا اور اس علاقے میں رہتا تھا جو پاکستان کے حصے میں آ گیا۔

جب وہ فسادات سے بچنے کے لیے اپنے گھروں سے بھاگے تو ان کے پاس سب سے قیمتی اشیا یہی جیکٹ اور بریف کیس تھا۔

اس وقت بھگوان سنگھ مینی کے تین بھائی پہلے ہی قتلِ عام میں مارے جا چکے تھے، اس لیے 30 سالہ بھگوان سنگھ نے اپنی تعلیمی دستاویزات اور جائیداد کے کاغذات اپنے خستہ بریف کیس میں ٹھونسے اور میانوالی میں واقع اپنے گھر سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

وہاں سے ڈھائی سو کلومیٹر دور گجرانوالہ میں پریتم کور کے خاندان والوں نے انھیں چھپا کر گھر سے نکالا اور امرتسر جانے والی ٹرین میں بٹھا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY: COOKIE MAINI
Image caption پریتم کور اور بھگوان سنگھ مینی

پریتم کور کی عمر 22 برس تھی اور ان کے ساتھ ان کے دو سالہ بھائی بھی تھے۔ ان کی سامان میں ان کی سب سے قیمتی چیز سرخ اور زرد رنگ کی جیکٹ تھی جس پر پھلکاری کے انداز میں کشیدہ کاری کی گئی تھی۔

انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کے دوران یہ دو منگیتر کسی طرح بچ بچا کر امرتسر کے پناہ گزین کیمپ میں جا پہنچے۔ اس دوران ڈیڑھ کروڑ افراد سرحد کے ایک طرف سے دوسری طرف منتقل ہوئے تھے۔

ایک دن کھانے کی قطار میں ایک معجزہ ہو گیا جب مینی اور کور کا اچانک آمنا سامنا ہو گیا۔

بھگوان سنگھ مینی کی بہو کوکی مینی کہتی ہیں: 'انھوں نے ایک دوسرے سے اپنے دکھ سکھ کی داستانوں کا تبادلہ کیا۔ وہ اپنے خاندانوں سے کٹ گئے تھے لیکن رفتہ رفتہ ان کے رشتے دار بھی آ پہنچے۔'

مارچ 1948 میں دونوں کی ایک سادہ سی تقریب میں شادی ہو گئی۔

کور نے اپنی پسندیدہ جیکٹ پہنی۔ مینی نے اپنے بریف کیس سے اپنے سرٹیفیکیٹ نکالے اور نئی زندگی شروع کر دی۔ انھیں کلیم میں ایک چھوٹا سا گھر مل گیا اور وہ لدھیانہ میں کور کے ساتھ مل کر رہنے لگے۔

ان کے ہاں دو بچے پیدا ہوئے جنھوں نے سول سروس جائن کر لی۔ مینی 30 سال بعد فوت ہو گئے، جب کہ کور کی وفات 2002 میں ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY THE PARTITION MUSEUM, TOWN HALL, AMRITSAR
Image caption اس عجائب گھر میں ہجرت سے متعلق نادر اشیا رکھی گئی ہیں

ککی مینی کہتی ہیں: 'جیکٹ اور بریف کیس ان کے بچھڑنے اور دوبارہ ملنے کی علامت ہیں۔'

اب ان دونوں کی یہ قیمتی اشیا امرتسر کے تقسیم کے متعلق عجائب گھر میں رکھی جائیں گی جو گذشتہ برس اکتوبر میں قائم ہوا۔

اگلے برس تک اس عجائب گھر میں مہاجروں کی تصاویر، خطوط، آڈیو ریکارڈنگز، ذاتی اشیا، سرکاری دستاویزات، نقشے اور اخباروں کے تراشے رکھے جائیں گے۔

عجائب گھر کے منتظم ملیکا اہلووالیا کہتے ہیں: 'یہ اپنی نوعیت کا دنیا میں واحد عجائب گھر ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں