افغانستان میں طالبان کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام سراسر غلط ہے: روس

طالبان تصویر کے کاپی رائٹ AP

روس نے نیٹو کی جانب سے لگائے گئے الزام کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ماسکو افغانستان میں طالبان کو خفیہ طور پر ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

جمعرات کو واشنگٹن میں کانگریس ممبران کو نیٹو کے جنرل کرٹس نے بتایا کہ ’شاید‘ روس شدت پسندوں کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

اس بیان کے جواب میں جمعے کو روس کے افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی ضمیر کابلوف نے اس بیان کو ’سراسر غلط‘ قرار دیا ہے۔

امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ممبران کو جنرل کرٹس نے بتایا کہ ’میں نے روس کے اثر و رسوخ کو حال میں دیکھا ہے جس کے باعث ان کے طالبان کے ساتھ روابط بڑھ گئے ہیں اور شاید ہتھیار بھی فراہم کرتا ہے۔‘

تاہم انھوں نے اس الزام کے حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

جنرل کرٹس کی جانب سے یہ الزام ایسے وقت آیا ہے جب ایک ماہ قبل افغانستان میں نیٹو فورسز کے امریکی کمانڈر نے کہا تھا کہ روس طالبان کو بڑھاوا دے رہا ہے اور افغانستان میں امریکی اور اثر و رسوخ کو کم کرنے اور نیٹو کو شکست دینے کے لیے سفارتی ڈھال کا استعمال کر رہا ہے۔

تاہم جنرل کرٹس کی جانب سے لگائے گئے الزام کے بارے میں بات کرتے ہوئے روس کے ایلچی ضمیر نے جمعہ کو کہا ’یہ من گھڑت باتیں ایک مخصوص پلان کے تحت ہیں تاکہ روس کو افغانستان میں امریکی فوج اور سیاستدانوں کی ناکامی کا جواز بنایا جا سکے۔‘

واضح رہے کہ روس اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ اس کے طالبان کے ساتھ محدود روابط ہیں جن کا مقصد ان کو مذاکرات کے لیے آمادہ کرنا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں