اور یوں رومیو بدنام ہوگیا!

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Roshan Jaiswal
Image caption انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں خواتین کی حفاظت کے لیے پولیس کے اینٹی رومیو دستے قائم کیے گئے ہیں

اگر انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کی سڑکوں سے آپ کا گزر ہو تو کوشش کیجیے گا کہ وہاں گلی چوراہوں پر تعینات خصوصی تربیت یافتہ پولیس والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی نوبت نہ آئے!

قانون کے ہاتھ تو پہلے ہی لمبے تھے، اب نگاہیں بھی بہت تیز ہوگئی ہیں۔ ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ یوگی ہیں۔ پیار، محبت، شادی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب وہ پہلے ہی تیاگ چکے ہیں اور اب ان کے حکم پر یو پی کے چھوٹے بڑے شہروں میں پولیس کے 'اینٹی رومیو دستے' گردش کر رہے ہیں۔

انڈیا میں عاشقوں کے خلاف ’اینٹی رومیو‘ سکواڈ

ان پولیس والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف آپ کی آنکھوں میں جھانک کر یہ بتا سکتے ہیں کہ آپ کسی لڑکی کو چھیڑنے نکلیں ہیں یا نہیں کیونکہ ’کسی کےماتھے پر یہ نہیں لکھا ہوتا کہ اس کا کردار کیسا ہے!‘

تجربہ انسان کو کیا کیا سکھا دیتا ہے۔ اب پولیس والوں کو ملزمان سے پوچھ گچھ میں وقت برباد نہیں کرنا پڑے گا۔ بس ملزمان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور فیصلہ کر لیا کہ بندے کو اندر کرنا ہے یا باہر!

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کیجیے، اس پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے، مگر بے چارے رومیو کو بدنام کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ رومیو نے کب کسی کا کچھ بگاڑا تھا؟

رومیو جولیئٹ ولیم شیکسپیئر کی مشہور کہانی ہے۔ لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں لیکن ہندی فلموں کی زیادہ تر لو سٹوریز کی طرح ان کے خاندانوں کی دشمنی آڑے آجاتی ہے۔ رومیو جولیئٹ خود تو زندگی میں ساتھ نہیں رہ پاتے لیکن ان کی موت کے بعد ان کے گھر والوں کو اپنی حماقت کا احساس ضرور ہو جاتا ہے۔

رومیو ایک عاشق تھا جو اپنی محبت حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی حد پار کرنے کے لیے تیار تھا، اور خود جولیئٹ اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ لگتا نہیں تھا کہ رومیو سکول کالجوں کے باہر کھڑے ہوکر لڑکیوں کو چھیڑتا ہوگا، اگر ایسا ہوتا تو جولیئٹ کی موت کی (غلط) خبر ملنے کے بعد وہ زہر کے پیالے کا نہیں کسی کالج کا رخ کرتا۔

خیر اپنے کردار کا دفاع کرنے کے لیے اب نہ جولیئٹ باقی ہے اور نہ شیکسپیئر۔

لیکن اتر پردیش میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اینٹی رومیو دستے نام نہاد ’لو جہاد‘ کو روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ہندو قوم پرستوں کا یہ الزام ہے کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو اپنے عشق میں پھنساتے ہیں اور یہ ایک منظم سازش ہے جسے روکنے کا وعدہ انتخابی مہم کےدوران بار بار کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر اس کے جواب میں کسی نے کہا کہ مسلمان لڑکا اگر ہندو لڑکی سے شادی کرے تو یہ لو جہاد ہے اور اگر ہندو لڑکا مسلمان لڑکی سے شادی کرے تو ’گھر واپسی ۔‘

خیر، اپنے ڈراموں کی سکرپٹ تو خود شیکسپیئر کے ہاتھوں میں ہوتی تھی لیکن اینٹی رومیو دستے جس مہم پر نکلیں ہیں، اس کی کوئی سکرپٹ نہیں ہے۔ ہر پولیس والا اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرے گا کہ آپ کس مشن پر نکلے ہیں۔

پولیس سے نگاہیں چرائیں تو مشکل، ملائیں تو مشکل!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں