بنگلہ دیش: سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو مشتبہ شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بنگلہ دیش میں فوجی حکام نے کہا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے شمال مشرقی شہر سِلہٹ میں دو مشتبہ شدت پسندوں کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا ہے۔

یہ کارروائی شہر کی ایک پانچ منزلہ عمارت کے اندر کی گئی جہاں شدت پسند مورچہ بند تھے۔

ایک اعلیٰ فوجی افسر کے مطابق عمارت میں مزید شدت پسندوں کی موجودگی کا خدشہ ہے۔ یہ فوجی محاصرہ جمعے سے جاری ہے۔ جبکہ سنیچر کو عمارت کے قریب ہونے والے دو دھماکوں میں کم سے کم چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار جبکہ چار عام شہری شامل ہیں۔ سنیچر کو ہونے والے ان دھماکوں کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جائے وقوعہ کے آس پاس زبردست سکیورٹی کا پہرہ ہے

حکام کے مطابق سہلٹ میں دھماکے اس رہائشی عمارت کے نزدیک ہوئے جہاں پر کمانڈوز مشتبہ شدت پسندوں کے ایک گروپ کے خلاف کارروائی میں مصروف تھے۔

کارروائی سے پہلے فلیٹس میں رہائش پذیر عام شہریوں کو نکال لیا گیا تھا جبکہ مشتبہ شدت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔

دھماکوں کی جگہ کے قریب شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو وہاں شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی وجہ سے جمع ہو گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پہلے دھماکہ خیز مواد کو دو موٹر سائیکل سوار افراد لائے جس کے نتیجے میں دھماکہ ہو گیا جبکہ دوسرا دھماکہ سبزیوں میں چھپائے گئے دھماکہ خیز مواد کے نتیجے میں ہوا۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اس واقعے سے پہلے 17 مارچ کو بھی ڈھاکہ میں ایلیٹ پولیس فورس کی بیرکس پر مبینہ خودکش حملے میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ ایک دن بعد اسی پولیس کی ایک چیک پوسٹ پر ایک مشتبہ حمہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ STR
Image caption سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں کئی کارروائیاں کی ہیں جن مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا اور گرفتاریاں بھی کی گئیں

بنگلہ دیش میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں حالیہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ گذشتہ سال ڈھاکہ میں ایک کیفے پر حملے کے بعد سے حالات قابو میں آ گئے تھے۔

اس دوران سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں کئی کارروائیاں کی تھیں جن میں نہ صرف مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا بلکہ کئی گرفتاریاں بھی کی گئیں۔

دولت اسلامیہ اور القائدہ کی جانب سے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی رہی ہے تاہم بنگلہ دیشی پولیس اس سے اتفاق نہیں کرتی اور پولیس کا کہنا ہے کہ اصل میں ان کاررائیوں کے پیچھے کالعدم تنظیم جمعیت المجاہدینِ بنگلہ دیش کا ہاتھ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ان حالیہ خود کش دھماکوں کے پیچھے اسلامی شدت پسندوں کا ہی ہاتھ تھا، تو یہ بنگلہ دیش میں شدت پسندوں کے خلاف حکومتی کارراوئیوں کا ایک نیا مرحلہ ثابت ہو گا۔

اسی بارے میں