'مسلمانوں میں تھوڑا خوف پھیلانا تو ضروری ہے'

یوگی آدتیہ ناتھ تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں سخت گیر ہندو نظریات کے حامل یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلی بنایا گيا ہے

'اتر پردیش میں یوگی جی کیا کر رہے ہیں؟' فون پر سوال پوچھنے والے میرے پرانے واقف کار حال ہی میں سرکاری نوکری سے ریٹائر ہوئے ہیں اور خاندانی طور پر کانگریس کے ووٹر ہیں۔

اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، جواب انھی کی جانب سے آیا 'یوگی جی بوچڑخانوں کے خلاف کارروائی کرکے ٹھیک ہی تو کر رہے ہیں۔ مسلمانوں میں تھوڑا بہت ڈر پھیلنا ضروری ہے۔'

مجھے برسوں پہلے کے انھی کے الفاظ یاد آ گئے۔ ملک کے کئی حصوں میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد بھڑکنے والے سکھ مخالف فسادات نے انھیں بے چین نہیں کیا تھا بلکہ وہ ان فسادات کو 'کورس كریكشن' کے طور پر دیکھ رہے تھے۔

٭ اترپردیش میں مذبح خانے بند ہونا شروع

٭ ’غیر قانونی مذبح خانوں کو گندگی نہیں پھیلانے دیں گے‘

تب بھی انہوں نے کہا تھا: سردار کچھ زیادہ ہی سر پر چڑھ گئے تھے۔ انھیں تھوڑا بہت سبق سکھایا جانا ضروری تھا۔

میرے یہی پرانے خاندانی دوست اپنے ساتھ کام کرنے والے دلت (پسماندہ یا نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے) ملازمین کو کئی بار مزاحیہ لہجے میں 'سرکاری داماد' کہتے رہے ہیں۔

پسماندہ طبقے کے افراد کو سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن دینے کے لیے منڈل کمیشن کی رپورٹ نافذ کروانے والے سابق وزیر اعظم وشوناتھ پرتاپ سنگھ ان کے خیال میں سب سے بڑے ولین تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption ابھی تک گوشت کی برآمدات کے معاملے اترپردیش پیش پیش تھا لیکن غیر قانونی مذبح خانوں پر پابندی سے یہ کاروبار متاثر ہو رہا ہے

یعنی ان کے خواب کے انڈیا میں مسلمانوں اور سکھوں کو ڈر کر رہنا ہوگا، دلتوں اور پسماندہ طبقے کی 'داماد' جیسی خاطر مدارات نہیں کی جائے گی۔ یعنی ملازمتوں اور یونیورسٹیوں میں انھیں ریزرویشن نہیں دیا جائے گا اور انڈیا کے پاس جوہری بموں کا ایسا ذخیرہ ہوگا جو پاکستان اور چین کو پلک جھپکتے ہی راکھ کر دے گا۔

اتر پردیش میں 'غیر قانونی' بوچڑخانوں (مذبح) کے خلاف جاری کارروائی کو یوگی کے فیصلہ کن لیڈر ہونے کے ثبوت کے طور پر دیکھنے والے وہ تنہا نہیں ہیں۔

دہلی میں اوبر ٹیکسی چلانے والے ایک ڈرائیور نے بھی بات چیت کے دوران کہا: ’کام ہوگا جی، کام ہوگا، اب دیکھو نا، بوچڑخانے بند تو کر رہے ہیں یوگی جی، اور بھی کام ہوں گے۔‘

اور کام ہو رہے ہیں۔ بی جے پی رہنما آدتیہ ناتھ یوگی نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی کرسی سنبھالنے کے فوراً بعد پارٹی کے انتخابی وعدوں کو نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔

بوچڑخانوں کے ساتھ ساتھ ریستوراں، پارکوں، گلیوں، محلوں میں خاکی ورديوں میں ملبوس پولیس اہلکار نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو روک کر ان کے شناختی کارڈ دیکھ رہے ہیں، ان سے کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کروا رہے ہیں اور اخلاقیات کے سبق سکھا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption بی جے پی اپنے انتخابی وعدے پورا کرنے میں لگی ہے اور اس کا براہ راست اثر ریاست کی مسلم آبادی پر ہو سکتا ہے

لیکن اگر آپ سکول یا کالج جانے والی کسی نوعمر لڑکی کے والد سے کہیں کہ یوگی کا یہ فیصلہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، تو وہ سب سے پہلے آپ کے انسانی حقوق کو پامال کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔

بہر حال یہ سچ ہے کہ جو کام اب تک 'ویلنٹائنس ڈے' کو بجرنگ دل اور ہندو سینا جیسی سخت گیر تنظیموں کے کارکن زعفرانی پٹکے پہن کر کیا کرتے تھے، اس کام کو اب ریاستیں اور اس کی پولیس مکمل طور قانون کے دائرے میں انجام دے رہی ہیں اور اسے لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔

یوگی انتظامیہ کو بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ، اگر یوپی پولیس اسے ہفتہ وصولی کا ذریعہ نہ بنا لے تو اس سے حکومت کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔

انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں بی جے پی سنجیدہ نظر آ رہی ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے ہر پلیٹ فارم سے یوپی کے ووٹروں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپیزمنٹ نہیں کرے گی۔

اگر قبرستان کے لیے زمین ملتی ہے تو شمشان کے لیے بھی ملے گی۔ پارٹی کو اترپردیش کے چار کروڑ مسلمانوں میں سے اسمبلی بھیجے جانے لائق ایک بھی مسلمان نہیں ملا۔ یا یوں کہیں کہ تلاش کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔

انتخابات کے نتائج آنے پر یہ ثابت ہو گیا کہ مسلمانوں کی 'ٹیكٹیكل ووٹنگ' کسی کام کی نہیں رہی اور یہ بھی کہ ہندو نظریاتی پارٹی بی جے پی کو اپنی سیاسی کامیابی کے لیے مسلمانوں کی ضرورت نہیں ہے۔

جن مسلمانوں کو اب تک اندرا گاندھی کی کانگریس، سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، اس سے پہلے انڈین لوک دل، دلت مزدور کسان پارٹی وغیرہ اپنے ساتھ رکھنا ضروری سمجھتی تھیں، انھیں بی جے پی اترپردیش کے سیاسی پس منظر سے باہر کر ہی چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے نتائج نے علامتی طور پر دلت اور مسلمانوں کو حاشیے پر لا کھڑا کیا ہے

اور اب وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے اعلان کر دیا ہے کہ غیر قانونی بوچڑخانوں کو گندگی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

میرٹھ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ستیش پرکاش اسے براہ راست مسلمانوں اور دلتوں کے روزگار کے ذریعہ معاش پر کڑی ضرب کہتے ہیں۔.

ان کا کہنا ہے کہ گوشت اور چمڑے کے کاروبار سے لاکھوں مسلمان اور دلت منسلک ہیں اور حکومت کے فیصلے سے ان کے روزگار پر اثر پڑے گا۔

اثر پڑتا ہے تو پڑتا رہے۔ لیکن بی جے پی اور سنگھ پریوار کے پالیسی سازوں کو معلوم ہے کہ بوچڑخانوں کے خلاف کارروائی سے ایک علامتی پیغام بھی جاتا ہے۔.

اسے ناپاکی کے خلاف پاکیزگی کے حامیوں کی مہم کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے یا یہ کہ گوشت کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی ناپاکی کے خلاف گورکھ ناتھ مٹھ کی ایک قسم کی مقدس مہم کے طور پر دیکھی جائے گی۔

گوشت خوری کو کریہ گناہ اور غلیظ کام ماننے والی برادریوں کے لیے بوچڑخانے بند ہونا 'رام راج' کی پہلی آہٹ جیسا ہے۔

اس پر اگر میرے پرانے واقف اور دہلی کے اوبر ڈرائیور تک یہ پیغام جا رہا ہے کہ ناپاکی کے خلاف یوگی کی اس مقدس مہم سے 'مسلمانوں میں خوف' پھیل رہا ہے تو گورکھناتھ مٹھ کے ناظم کا نصف کام آسان ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں