پاکستانی کی معافی سے دس انڈیئنز کی زندگی بچ سکتی ہے

محمد ریاض اور مسٹر اوبرائے تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDAR SINGH ROBIN
Image caption محمد ریاض کی معافی سے دس ہندوستانی نوجوانوں کی جان بچ سکتی ہے

پاکستان کے ایک شخص نے اپنے بیٹے کے قاتلوں کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے سبب انڈیا کے دس نوجوانوں کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے شہر ابو ظہبی کی العین عدالت نے موت کی سزا پانے والے دس ہندوستانی نوجوانوں کی سزا معاف کرنے کے بدلے خوں بہا جمع کروانے کی منظوری دی ہے۔

انڈیا کے پنجاب سے ابو ظہبی جا کر کام کرنے والے ان لڑکوں کو سنہ 2015 میں ایک جھڑپ کے دوران ایک پاکستانی نوجوان کے قتل کا مجرم پایا گیا اور انھیں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

٭ امارات میں ’غیر قانونی جنسی تعلقات‘رکھنے والا جوڑا رہا

متحدہ عرب امارات میں شریعہ کے مطابق اگر قتل کے مجرم اور مقتول کے خاندان کے درمیان صلح ہو جائے اور اگر متاثرہ خاندان معاف کر دے تو سزائے موت کے خلاف عدالت میں اپیل کی جاسکتی ہے۔

پاکستانی شہر پشاور سے تعلق رکھنے والے محمد ریاض نے اپنے بیٹے محمد فرحان کے قاتلوں کو معاف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDAR SINGH ROBIN
Image caption فرحان کے قتل کے الزام میں دس ہندوستانیوں کو موت کی سزا سنائی گئی تھی

اب انڈیا کی ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان نوجوانوں کو معافی دی جائے یا نہیں، یہ فیصلہ عدالت کو کرنا ہے، لیکن ان نوجوانوں کو رہائی کی صورت نظر آنے لگی ہے۔

عدالت میں خوں بہا جمع کرانے کا انتظام ہندوستانی نژاد ایس پی سنگھ اوبرائے نے کیا ہے جو کہ دبئی میں کاروبار کرتے ہیں۔

اوبراے 'سربت دا بھلا' نام کی این جی او کے صدر ہیں جو اس طرح کے معاملات میں گرفتار افراد کی مدد کرتی ہے۔

مسٹر اوبرائے نے صحافی رویندر سنگھ رابن کو بتایا: '26 اکتوبر کو جن دس نوجوانوں کو موت کی سزا دی گئی تھی، اس معاملے میں ہم سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔'

پاکستانی شہری محمد فرحان جھگڑے میں مارے گئے تھے۔ مقتول کے والد محمد ریاض انڈین نوجوانوں کی سزائیں معاف کرانے کے لیے اپنے خاندان اور کچھ دوستوں کے ساتھ پشاور سے ابو ظہبی کی پہنچے ہیں۔

انھوں نے معاہدے کے کاغذات عدالت میں جمع کرائے جس پر مزید کارروائی کے لیے 12 اپریل سنہ 2017 کی تاریخ دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDAR SINGH ROBIN
Image caption سزا پانے والے افراد کا تعلق ہندوستانی ریاست پنجاب سے ہے

محمد ریاض کا کہنا ہے: 'میں نے اپنے بیٹے کو کھو دیا یہ میری بدقسمتی تھی۔ اگر میں ان لڑکوں کو معاف نہیں کرتا تو کیا ہوتا؟ میں نوجوان نسل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایسے جھگڑے نہ کریں، اپنے کام سے کام رکھیں اور اپنے ملک اور والدین کا نام روشن کریں۔‘

نوجوان نسل کو پیغام دیتے ہوئے محمد ریاض نے کہا: ’میں نے ان دس لوگوں کو معاف کر دیا اور ان کی زندگی اللہ نے بچائی ہے، میرا تو صرف نام ہے۔ یہاں آنے والے ہر ایک شخص کے ساتھ دس لوگوں کی زندگیاں جڑي ہوتی ہیں، ان کے والدین، بیوی اور بچوں کی۔‘

مسٹر اوبرائے نے بتایا: ’محمد ریاض کو تین دن پہلے پاکستان سے بلایا گیا ہے۔ ہم نے ان کے لیے ویزا اور ٹکٹ اور یہاں رہنے کا انتظام کیا۔ ہم نے کسی طرح محمد ریاض کو منایا اور اب شریعت کورٹ کے قانون کے مطابق ہم نے دو لاکھ درہم خوں بہا رقم عدالت میں جمع کروائی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDAR SINGH ROBIN
Image caption مسٹر اوبرائے سربت بھلا نامی این جی او چلاتے ہیں جو سزا یافتہ نوجوانوں کی امداد کرتا ہے

اوبرا‏‏ئے نے یہ بھی بتایا کہ محمد ریاض نے جج کے سامنے اپنے خاندان کی جانب سے تمام دس نوجوانوں کو معاف کر دینے کی بات کہی ہے۔

اوبرائے نے اپنے این جی او 'سربت دا بھلا' کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہا سنہ 2006 سے 2010 کے درمیان 123 نوجوانوں کو موت کی سزا اور 40 سال تک جیل کی سزا سنائی گئی تھی جس میں سے انھوں نے 88 نوجوانوں کو پھانسی سے بچایا ہے اور وہ سب اب اپنے گھر جا چکے ہیں۔ یہ نوجوان پنجاب، ہریانہ، مہاراشٹر اور حیدرآباد کے تھے۔ ان میں پانچ نوجوان پاکستان اور پانچ بنگلہ دیش کے بھی تھے۔.

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں