ہندوستانی سرحدوں کی نگرانی کرنے والی خواتین فوجی

تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar Chatterjee

انڈیا کی بین الاقوامی سرحد کی حفاظت کرنے والے سکواڈ بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے جون سنہ 2008 میں خواتین کا اپنا ونگ شروع کیا تھا اور دو دن قبل کسی خاتون کو پہلی بار کمبیٹ آفیسر بنایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar Chatterjee

پہلی بار خواتین ونگ کی فوجیوں کو اپریل سنہ 2009 میں پاکستان کے ساتھ سرحد پر تعینات کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar Chatterjee

موجودہ وقت میں بی ایس ایف کی 3084 سے زیادہ خواتین نوجوان پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ انڈیا کی سرحد پر تعینات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar Chatterjee

ان میں سب سے زیادہ 1215 خواتین فوجی مغربی بنگال بی ایس ایف یونٹ میں تعینات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar Chatterjee

ان خواتین فوجیوں کی تعیناتی تریپورہ، آسام، میگھالیہ، میزورم، مغربی بنگال، راجستھان، گجرات، پنجاب اور جموں کشمیر کی سرحدوں پر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar Chatterjee

انھیں فی الحال دن کی روشنی میں آٹھ گھنٹے کے لیے سرحد پر ڈیوٹی دینی ہوتی ہے اور ان کی ذمہ داریوں میں انسانی سمگلنگ اور منشیات کی سمگلنگ پر نظر رکھنا شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar Chatterjee

بہرحال ابھی تک انھیں رات کے وقت نگرانی پر تعینات نہیں کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shib Shankar Chatterjee

دو دن قبل بی ایس ایف کی 51 سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون کو کمبیٹ آفیسر تعینات کیا گیا ہے۔ تنوشری پاریک پہلی خاتون بھی ہیں جنھوں نے بی ایس میں آفیسر رینک میں شمولیت اختیار کی تھی۔

متعلقہ عنوانات