انڈيا کے زیر انتظام کشمیر میں مسلمان اقلیت یا اکثریت میں؟

تصویر کے کاپی رائٹ SD ZAin
Image caption انڈيا کی ریاست جموں کشمیر میں مسلمان اکثریت میں ہیں

انڈيا کی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ بھارت کے زير انتظام کشمیر میں رہنے والے مسلمانوں کو اقلیت کا درجہ ملنا چاہیے یا نہیں یہ فیصلہ ریاستی اور مرکزی حکومت کو آپس میں مل کر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

چیف جسٹس جے ایس كھیہر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور ایس کول کی بنچ نے کہا ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومت باہمی بات چیت سے اس معاملے کو حل کرنے کی کوششیں کریں اور چار ہفتوں کے اندر اندر اس سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

'یہ بہت اہم مسئلہ ہے اور دونوں حکومتوں کو مل کر اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

گذشتہ برس جموں کے رہنے والے ایک وکیل انکور شرما نے مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کی تھی اور استدعا کی تھی کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ لیکن وہاں اقلیتوں کے لیے مختص حکومت کی سکیموں کا فائدہ اکثریتی آبادی مسلمانوں کو مل رہی ہیں۔

انھوں نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ مسلمانوں کو جو اقلیتی کمیونٹی کا درجہ ملا ہے اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے اور ریاست کی آبادی کی مناسبت سے اقلیتی فرقوں کی نشاندہی کی جانی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس کیس کے تعلق سے سپریم کورٹ نے ریاست جموں و کشمیر، مرکزی حکومت اور قومی اقلیتی کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا۔

انکور شرما کا کہنا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر میں اقلیتی کمیشن جیسا کوئی ادارہ بھی نہیں ہے۔

انڈيا کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں مجموعی طور پر مسلمانوں اکثریت میں ہیں لیکن جموں خطے میں ہندوؤں کا تناسب مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

اسی طرح وادی کشمیر میں ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کا تناسب کافی زیادہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں