انڈیا: افریقی نسل کے باشندوں پر حملہ، چھ افراد گرفتار

پویلس (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ HIRDESH KUMAR
Image caption پولیس نے بتایا کہ تین افریقی نسل کے باشندوں کی مشتعل بھیڑ نے پٹائی کی ہے اور اس معاملے میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے

انڈیا کی وزیر خارجہ ششما سوراج نے دارالحکومت نئی دہلی سے ملحق علاقے گریٹر نوئیڈا میں پیر کی شام نائیجیریا کے تین شہریوں پر مبینہ حملے کے متعلق رپورٹ طلب کی ہے۔

گریٹر نوئیڈا ریاست اترپردیش کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جہاں پیر کی شام ایک لڑکے کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ لڑکے کی موت منشیات کی زیادہ مقدار لینے سے ہوئی تھی اور یہ کہ افریقی باشندے وہاں منشیات کا کاروبار کرتے ہیں۔

مشتعل بھیڑ نے کئی افریقی باشندوں کو زخمی کر دیا جبکہ نائجیریا کی ایک لڑکی کے اغوا کی بھی خبریں ہیں۔

پولیس نے اس معاملے میں چھ افراد کو گرفتار کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے اغوا کی خبر جھوٹی ہے۔ ایسی افواہیں کشیدگی بڑھانے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں۔

دوسری جانب وزیر خارجہ سشما سوراج نے اترپردیش کی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔ سشما سوراج نے ٹوئٹر پر لکھا: 'نوئیڈا میں افریقہ کے طالب علموں پر مبینہ حملے کے بارے میں میں نے اتر پردیش کی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔

ایسوسی ایشن آف افریقن سٹوڈنٹس ان انڈیا (اے اے ایس آئی) نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ انڈیا میں نسل پرستی کے سنگین ہوتے ہوئے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں رہنے والے افریقی باشندوں کا کہنا ہے کہ نسل پرستی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

اے اے ایس آئی کے فیس بک صفحے پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے: 'ہم حکومت ہند کی خوشامد اور وعدوں سے تھک چکے ہیں اور اس وجہ سے ہم کچھ سخت قدم اٹھائیں گے۔

پانچ نکات والے اس بیان کے مطابق، اے اے ایس آئی افریقی یونین کو بھارت سے تمام دو طرفہ تجارت کو بند کرنے کی اپیل کرے گا۔

گریٹر نوئیڈا پولیس کے مطابق، حملہ آوروں کی تعداد 25 سے 30 کے درمیان تھی۔ انھوں نے نائیجیریا کے شہریوں کی گاڑیوں اور املاک کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

پولیس کے مطابق، تینوں زخمی نائجریائی شہریوں کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔.

گریٹر نوئیڈا میں پولیس سربراہ ابھینندن نے بی بی سی کو بتایا: 25 مارچ کو گریٹر نوئیڈا کی این ایس جی سوسائٹی میں رہنے والے منیش نام کے ایک نوجوان کی پراسرار حالات میں موت ہو گئی۔ منیش کے لواحقین نے اس معاملے میں سوسائٹی میں رہنے والے نائجیریا کے پانچ طالب علموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ منیش کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ ان طالب علموں نے منیش کو منشیات یا کوئی زہریلا مادہ دیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑ گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سشما سوراج نے ٹوئٹر پر لکھا: 'نوئیڈا میں افریقہ کے طالب علموں پر مبینہ حملے کے بارے میں میں نے اتر پردیش کی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔

مسٹر ابھینندن نے بتایا کہ منیش کی موت پر پیر کی شام ان کے لواحقین اور بعض دیگر افراد نے گریٹر نوئیڈا کے پری چوک کے قریب کینڈل مارچ نکال رہے تھے۔

انھوں نے بتایا: 'مارچ میں شامل کچھ لوگوں نے وہاں کے ایک شاپبنگ مال میں موجود نائیجیریا کے دو شہریوں کی پٹائی کر دی۔ ان کی گاڑیوں جلانے کی بھی کوشش کی گئی۔ ہجوم نے نائیجیریا کے ایک دوسرے شہری کے ساتھ بھی مار پیٹ کی۔

پولیس کے مطابق، تفتیش کے دوران ایسی کوئی معلومات نہیں ملی ہے کہ منیش اور نائیجیریا کے طالب علموں کے درمیان کوئی رابطہ تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں