کشمیر: محصور شدت پسندوں کو ’بچاتے ہوئے‘ تین نوجوان ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسلح تصادم کے دوران عوام نے مظاہرہ کیا

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلح تصادم کے دوران ایک بار پھر لوگوں نے محصور شدت پسندوں کو ’بچانے‘ کی کوشش کی جس کے دوران فوج کی فائرنگ سے تین نوجوان مظاہرین مارے گئے جبکہ 14 دیگر چھرّوں اور گولیوں سے زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ وسطی کشمیر کے چاڑورہ قصبہ میں منگل کی صبح پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاع ملنے کے بعد چاڑورہ کی ایک بستی کا محاصرہ کیا گیا تو وہاں چھپے شدت پسندوں نے فوج اور پولیس کے مشترکہ دستے پر فائرنگ کر دی۔

فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس طویل جھڑپ میں ایک شدت پسند مارا گیا جبکہ ایک فوجی زخمی ہوا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جس مکان میں شدت پسندوں نے پناہ لی ہوئی تھی، اسے فوج نے بارودی مواد لگا کر زمین بوس کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تین نوجوان مظاہرین مارے گئے جبکہ 14 دیگر چھرّوں اور گولیوں سے زخمی ہوگئے

علیحدگی پسندوں نے ان ہلاکتوں کے خلاف بدھ کو ہڑتال کی کال دی ہے۔

واضح رہے کہ کشمیر میں گذشتہ برس جولائی میں مسلح جنگجو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد احتجاج کی ایک لہر پھیل گئی ہے۔ پچھلے سال سے ہی کشمیر میں مسلح تصادموں کے دوران محصور شدت پسندوں کو بچانے کے لیے احتجاج کرنے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایسے مظاہروں کے دوران اب تک ایک بچہ اور ایک خاتون سمیت 9 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کئی بار لوگوں سے اپیل کر چکی ہیں کہ جہاں ایسا تصادم ہو رہا ہو وہاں مظاہرہ نہ کریں۔

بھارت کی بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے تو یہاں تک کہا تھا کہ ’جو لوگ فوجی آپریشن میں حائل ہوں گے انھیں شدت پسندوں کا معاون تصور کیا جائے گا۔‘ اس بیان پر بھارت اور کشمیر کے سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں