انڈيا: بی جے پی کی ریاستوں ميں مذبح خانوں کے خلاف کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکومتوں کے اس فیصلے کا اثر ملک کے مختلف علاقوں پر پڑ رہا ہے۔ اس سے گوشت کی سپلائی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے اور کئی علاقوں میں بڑے ہوٹل بند ہوگئے ہیں

انڈيا میں ریاست اترپردیش کے بعد، جھار کھنڈ اور اترا کھنڈ کی ریاستوں میں بھی مذبح خانوں کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ریاست جھارکھنڈ میں مسلم تنظیم 'انجمن اسلامیہ' نے ریاستی حکومت کے غیر قانونی مذبح خانوں کے خلاف کارروائی کے حکم پر اعتراض کیا ہے۔

ریاستی حکومت نے تمام غیر قانونی مذبح خانوں کو اگلے 72 گھنٹے میں بند کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔

اس سلسلے میں ریاست کے داخلہ سکریٹری ایس کے جی رہاٹے نے ریاست کے تمام ڈپٹی کمشنروں، پولیس افسران اور دیگر اداروں کو خط لکھا ہے۔

مقامی صحافی اروی پرکاش نے جب اس فیصلے کے بارے میں انجمن اسلامیہ کے صدر محمد ابرار احمد سے رابطہ کیا تو انذوں نے کہا: 'بہتر ہوتا کہ حکومت اس حکم کو رام نومی کے بعد جاری کرتی۔ ویسے بھی ریاستی دارالحکومت رانچی میں ایک بھی مذبح خانے کے پاس لائسنس نہیں ہے۔ لائسنز والے دو مذبح خانے تھے لیکن حکومت نے ان کے لائسنز کو رینیو نہیں کیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGE

انھوں نے کہا کہ اس مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو پہلے پورے ملک میں یا کم از کم بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیر اقتدار والی ریاستوں میں اس پر پابندی عائد کی جائے۔

ریاست اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ریاست میں غیر قانونی مذبح خانوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

ریاست اترا کھنڈ کے معروف شہر ہری دوار میں بھی حکمراں جماعت بی جے پی نے مذبح خانوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ وہاں کی مقامی انتظامیہ کی جانب سے میونسپل علاقوں کی گوشت کی دکانوں کو بند کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

ہری دوار ہندوؤں کا ایک مقدس شہر مانا جاتا ہے۔

مقامی صحافی شیو جوشی نے جب اس فیصلے کے بارے میں شہر کے میئر منوج گرگ سے پوچھا تو انھوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے شہر کے کمشنر، ضلع مجسٹریٹ، اور یہاں کے پولیس کپتان کو اس بارے میں احکامات جاری کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption گوشت کی کمی کے سبب کئی معروف ہوٹل بند کرنے پڑے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ 'جن کے پاس لائسنس ہیں اور وہ گوشت کو کھلا رکھتے ہیں، وہ اسے ڈھک کر رکھیں، جو غیر قانونی طور پر كاٹ رہے ہیں ان کو فورا بند کرنے کو کہا گيا ہے اور جو لائسنس والے ہیں وہ قوانین پر مناسب طریقے سے عمل کریں، انھیں ہدایات کے نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا۔'

میئر کے مطابق انھوں نے اس بارے میں وزیر اعلی تریویندر سنگھ راوت کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

ہری دوارکے جوالاپور علاقے میں تقریبا 100-150 خاندان گوشت کی دکانیں چلاتے ہیں اور امکان ہے کہ سب سے پہلے وہ اس کی وڈ میں آئیں گے۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سے کئی کے پاس لائسنس نہیں ہیں۔

ریاستی حکومتوں کے اس فیصلے کا اثر ملک کے مختلف علاقوں پر پڑ رہا ہے۔ اس سے گوشت کی سپلائی بری طرح سے متاثر ہوئی اور کئی علاقوں میں بڑے ہوٹل بند ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق تاجروں کا ایک طبقہ معاملے کو عدالت میں لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں