آدتیہ ناتھ انتہاپسند یا محض بیان باز؟

آدتیہ ناتھ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یوگی آدیتہ ناتھ جب سے انڈیا کی سیاسی اہمیت کی حامل ریاست اترپردیش کے وزیرِ اعلیٰ بنے ہیں اس کے بعد سے ہمہ وقت شہ سرخیوں میں ہیں۔

زعفرانی لبادے میں ملبوس آدتیہ ناتھ مذہبی رہنما ہیں جنھیں اتنا ہی سراہا جاتا ہے جتنے وہ متنازع ہیں۔

عام طور پر یوگی کہلائے جانے والے 44 سالہ آدتیہ ناتھ جب 19 مارچ کو گورکھ پور کے ایک مندر میں وزیرِ اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد لوٹے تو ان کا ایک ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا۔

راتوں رات پورا شہر ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے زعفرانی رنگ میں رنگ گیا۔ شہر بھر میں زرد پھولوں کی بہار آ گئی اور ہزاروں لوگ گھنٹوں ان کے انتظار میں راستوں پر بسر و چشم کھڑے رہے۔ ایک شخص نے کہا: 'کچھ لوگ دوسروں کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں، اور کچھ دوسروں کے لیے نقشِ قدم بناتے ہیں۔'

یوگی شعلہ بیان مقرر ہیں اور وہ گورکھ پور سے پانچ بار رکنِ پارلیمان مقرر ہو چکے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کی پوجا کرتے ہیں اور انھیں 'دیوتاؤں کا اوتار' سمجھتے ہیں۔

Image caption آدتیہ ناتھ کے وزیرِ اعلیٰ بنتے ہی گورکھ پور راتوں رات زعفرانی رنگ میں رنگ گیا

تاہم وہ بےحد متنازع شخصیت بھی ہیں جو اکثر غلط وجوہات کی بنا پر خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا کے سب سے زیادہ تفرقہ باز رہنما ہیں اور انھوں نے اپنے سیاسی جلسوں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت ابھارنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

ان کے بعض بیانات پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔

انھوں نے مسلمانوں پر الزام لگایا تھا کہ وہ 'لو جہاد' کرتے ہیں اور ہندو لڑکیوں کو ورغلا کر انھیں مسلمان بنا دیتے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مدر ٹریسا انڈیا کو عیسائی بنانا چاہتی تھیں، اور مسلمانوں پر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرز کی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اس کے علاوہ انھوں نے بالی وڈ سٹار شاہ رخ خان کا تقابل حافظ سعید سے کیا تھا۔

انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ 'اینٹی رومیو' دستے قائم کریں گے جن کے تحت ہندو خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو روکا جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ غیرقانونی مذبح خانے بند کروا دیں گے۔

وہ یہ دونوں کام پہلے ہی کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اتر پردیش میں چار کروڑ مسلمان بستے ہیں

آدتیہ ناتھ کو مقدمات کا بھی سامنا ہے۔ ان پر قتل، اقدامِ قتل، دھمکانے اور توڑ پھوڑ کے الزامات ہیں۔ 2007 میں انھوں نے نفرت انگیز تقریریں کرنے کے الزام کے تحت 11 دن جیل میں گزارے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ ان کی حیرت انگیز کامیابی سے انڈیا اور انڈیا سے باہر بہت سے لوگوں کو خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ان کے اقتدار میں اتر پردیش کے چار کروڑ مسلمانوں کو چین کا سانس نصیب نہیں ہو گا۔

برطانوی اخبار گارڈین نے ایک اداریے میں ان کی فتح کو 'مسلمان مخالف تعصب کی جیت' قرار دیا جب کہ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ مودی 'ہندو انتہا پسندوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔' اخبار نے آدتیہ ناتھ کی تقرری کو 'مذہبی اقلیتوں کے لیے 'ہولناک سرزنش' کہا۔

انڈین کالمنسٹ پرتاپ بھانو مہتا نے اسے 'نفرت انگیز اور خوفناک پیش رفت' قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SANGAM DUBEY
Image caption آدیتہ ناتھ کے جلسوں میں لوگوں کا جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے

آدتیہ ناتھ کے وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد تنازع بدستور برقرار ہے۔ ان کے 'اینٹی رومیو' دستوں پر الزام ہے کہ وہ نوجوان جوڑوں کو بلاوجہ تنگ کرتے ہیں اور حکام کی جانب سے مذبح خانے بند کرنے کے فیصلے پر بھی سخت تنقید ہوئی ہے۔

تاہم گورکھ پور کے اخبار اپنے ہیرو کی 'عظیم فتح' پر بےحد مسرور نظر آتے ہیں۔

گورکھ پور کے سینیئر صحافی کمار ہرش کہتے ہیں: 'مقامی اخبارات ان کی زبردست یادداشت کی تفصیلات بیان کر رہے ہیں کہ انھیں ہزاروں لوگوں کے نام یاد ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ وہ گایوں، بندروں، کتوں اور پرندوں سے گفتگو کر سکتے ہیں۔

'یہاں کے لوگوں کے لیے وہ سلیبرٹی ہیں۔ وہ مہا پجاری بھی ہیں اور ہسپتال اور کالج بھی چلاتے ہیں۔ وہ محنتی ہیں اور لوگوں میں بےحد مقبول ہیں۔'

یوگی آدتیہ ناتھ 1972 میں ایک فاریسٹ رینجر کے گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے ریاضی میں گریجویشن کی اور 1993 میں گورکھ پور آ گئے جہاں انھیں وہاں کے بڑے مندر کے پجاری مہنت آدتیہ ناتھ کا جانشین مقرر کر دیا گیا۔

آدتیہ ناتھ گوشت نہیں کھاتے اور انھوں نے عمر بھر برہمچاری رہنے کا عہد کر رکھا ہے۔

جب میں نے مندر میں ان کے نائب دوارکا تیواری سے آدتیہ ناتھ کے مسلمان مخالف بیانات کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے ان باتوں کو اپنے سیاسی حریفوں کی جانب سے پروپیگنڈا اور سازش کہہ کر مسترد کر دیا۔

Image caption کپڑے کے بیوپاری فیروز احمد کہتے ہیں کہ سب سیاست دان ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں

انھوں نے کہا: 'مسلمان بھی ان کا اتنا ہی احترام کرتے ہیں۔ وہ ان کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لیے آتے ہیں۔'

ان کے مندر کے باہر مسلمان دکان دار اصرار کرتے ہیں کہ انھیں آدیتہ ناتھ کی تقرری پر تشویش نہیں ہے۔ کپڑے کے بیوپاری فیروز احمد کہتے ہیں کہ انھوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا اور اب وہ چاہتے ہیں کہ اس پسماندہ شہر میں ترقیاتی کام کیے جائیں۔

انھوں نے کہا: 'تمام سیاست دان انتخابات جیتنے کے لیے ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ان کے بعض حامی شرپسند ہیں جو غلط کام کرتے ہیں، لیکن اب جب وہ اقتدار میں آ گئے ہیں تو یہ سب ختم ہو جائے گا۔'

تو کیا یہ سب کچھ خالی خولی انتخابی بیان بازی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کیا آدتیہ ناتھ بی جے پی کا مستقبل ہیں؟

اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے صحافی شرت پردھان کہتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ بہت محتاط رہے ہیں اور انھوں نے رام مندر کا بھی نام نہیں لیا 'لیکن پریشانی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے حامیوں کے اندر انتہا پسند عناصر کو ہوا دے دی ہے۔ اب جن بوتل سے باہر آ گیا ہے اور سوال یہ ہے کہ آیا وہ اسے دوبارہ بند کر سکیں گے؟'

پردھان نے ایک اور بات کی جانب توجہ دلائی: 'فی الحال مودی اپنی جماعت میں نمبر ایک ہیں، باقی سب نمبر نو ہیں۔ یوگی آدیتہ ناتھ نمبر دو ہو سکتے ہیں۔

'وہ نسبتاً جوان ہیں۔ جب ان کی عمر 60 برس ہو گی تو مودی 80 سال کے ہو چکے ہوں گے، اور انھیں ٹکر دینے کے لیے تیار ہوں گے۔ وہ جے پی کا مستقبل ہیں۔'

اسی بارے میں