انڈین ریاست گجرات میں نیا قانون، گئوکشی کی سزا عمر قید

گائے تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انڈیا کی مغربی ریاست گجرات نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت گائے ذبح کرنے والے کو عمر قید کی سزا دی جا سکے گی۔

ریاست کے موجودہ تحفظِ حیوانات کے قانون میں ترمیم کی گئی ہے اور اب گائے کے گوشت کی ترسیل کرنے والوں کو بھی دس برس کے لیے جیل بھیج دیا جائے گا۔

ہندوؤں کے نزدیک گائے مقدس جانور ہے اور کئی ریاستوں میں اسے مارنے پر پابندی ہے۔

تاہم گجرات کا یہ نیا قانون اب انڈیا میں گئوکشی کے خلاف سخت ترین قانون بن گیا ہے۔

قید کے علاوہ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔ جرمانوں کی رقم بھی 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

گجرات کے وزیرِ مملکت پردیپ سنگھ جڈیجا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ گائے انڈیا کی ثقافت کی علامت ہے اور قانون میں ترمیم 'لوگوں سے مشاورت' کے بعد کی گئی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ وجے روپانی بھی بار بار گئو کشی کے مرتکب افراد کے 'سخت' سزاؤں کا وعدہ کرتے رہے ہیں۔

یہ نیا قانون ہفتے کے روز سے نافذ العمل ہو جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں