بوٹی چھوٹی یا بڑی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption اتر پردیش کے وزیر اعلی پہلے گوشت خوروں کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں

انڈیا میں اگر گوشت کھانے اور نہ کھانے والوں کو الگ الگ قطاروں میں کھڑا کیا جائے تو یہ اندازہ لگانا کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ کون سی قطار زیادہ لمبی ہوگی۔

سوا ارب کی آبادی ہے، قطاریں تو دونوں ہی لمبی ہوں گی، لیکن اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ پہلے گوشت خوروں کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

آپ نے کبھی کسی سبزی کی دکان کے سامنے بھیڑ نہیں دیکھی ہوگی، لیکن گوشت کی دکانوں پر لوگ گھنٹوں برباد کرتے ہیں، شکایتیں اور فرمائشیں کبھی ختم نہیں ہوتیں، گوشت یا تو چکنا زیادہ ہے یا اس میں چکنائی نہیں ہے، بوٹی چھوٹی ہیں یا بہت بڑی، قیمہ زیادہ باریک ہے یا زیادہ موٹا ۔۔۔ اور بس اسی بحث میں بیش قیمت وقت برباد ہو جاتا ہے۔

لیکن اب یہ سب بدل رہا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ جب سے یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں، انھوں نے گوشت خوروں کے مسائل حل کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے، بس کھل کر کوئی اس بات کا اعتراف نہیں کر رہا کیونکہ کوئی بھی سیاستدان یہ تاثر نہیں دینا چاہے گا کہ وہ کسی ایک طبقے کے حالات زندگی بہتر بنانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔

جو لوگ گوشت کھاتے ہیں اگر وہ دکانوں کے سامنے اپنا وقت برباد نہیں کریں گے تو اپنی توانائی کسی بہتر کام میں لگائیں گے، ان کا اپنا کاروبار پھلے پھولے گا، اور پلک جھپکتے ہی ان کی یہ دیرینہ شکایت ختم ہو جائے گی کہ اقتصادی ترقی کی دوڑ میں وہ پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔

لیکن لوگ آسانی سے سمجھتے کہاں ہیں۔ گوشت کا غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے نامعلوم کتنے مطلب نکالے جارہے ہیں۔ کچھ لوگ تو یہ الزام تک لگا رہے ہیں کہ یہ ایک خاص طبقے کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا جارہا ہے۔ لیکن ان لوگوں کو صرف اخبارات پڑھنے کی ضرورت ہے اور ان کے خدشات پلک جھپکتے ہی اسی طرح ختم ہو جائیں گے جیسے دکانوں سے گوشت ختم ہوگیا ہے۔

گوشت کے کاروبار سے جتنے مسلمان وابستہ ہیں شاید اتنے ہی ہندو بھی، ایسی کوئی ترکیب نہیں کہ صرف ایک کو نقصان یا فائدہ پہنچایا جاسکے، اور اگر کسی طرح یہ ممکن ہے بھی تو کوئی فکر نہیں کیونکہ بڑے رہنما جب کسی بڑے مشن پر نکلتے ہیں تو پھر ان باریکیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔

جب وزیر اعظم نریندر مودی نے بڑے نوٹوں پر پابندی لگائی تھی تو ان پر سب سے بڑی تنقید یہ تھی کہ انھوں نے ’سٹاک‘ کے خلاف کارروائی کی ہے جبکہ اصل مسئلہ ’سپلائی‘ کا ہے۔ نوٹ بند کیے جانے کے بعد بنکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے سامنے لمبی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں، بہت سے لوگ جہاں قطار دیکھتے تو اس میں شامل ہوجاتے، بغیر یہ معلوم کیے کہ جہاں سے قطار شروع ہو رہی ہے وہاں بینک یا اے ٹی ایم مشین ہے بھی یا نہیں!

یو پی میں گوشت کی سپلائی کا اب یہ عالم ہے کہ لوگ بوٹیاں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ واٹس ایپ پر ایک پیغام گردش کر رہا ہے جس میں دو قومی شاہراہیں دکھائی گئی ہیں۔ ایک راستہ بہار کو جاتا ہے جہاں شراب پر پابندی ہے اور دوسرا یو پی کو جہاں کباب پر!

تصویر کے کاپی رائٹ SOCIAL MEDIA
Image caption آپکی دلچسپی کباب میں ہو تو بہار کا رخ کیجیے، اور شراب میں تو یو پی کا

آپ کی دلچسپی کباب میں ہو تو بہار کا رخ کیجیے، اور شراب میں تو یو پی کا۔ اور اگر دونوں میں نہیں ہے تو سبزی کی دکانیں تو ہیں ہی۔ اور وہاں کبھی بھیڑ نہیں لگتی!

لیکن گوشت کے ِخلاف کارروائی سے بہت سے ایسے لوگوں کی امیدیں جاگ گئی ہیں جو لکھنؤ میں ایک سخت انصاف پسند رہنا کے اقتدار سنبھالنے کا انتظار کر رہے تھے۔

گوشت کی ان تمام چھوٹی بڑی دکانوں اور مذبح خانوں کے ِخلاف کارروائی ہو رہی ہے جن کے کاغذات پورے نہیں ہیں، یا جو ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اب عام شہریوں کو انتظار ہے کہ بغیر لائسنس کے کسی بھی کاروبار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جن لوگوں نے اپنے کاروبار کے لیے یا بغیر کاروبار ہی سڑکوں یا سرکاری زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے، انہیں ہٹایا جائے گا، سڑکوں پر جنریٹر رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی، آپ جہاں دل چاہے گاڑی پارک نہیں کر سکیں گے، جعلی دوائیں ہوں یا سٹے بازی سب کی شامت آئے گی، نہ بجلی کی چوری ہوگی نہ پانی کی، حکومت کا شکنجہ سب پر برابر کسے گا۔۔۔ لیکن سب کو پھر بھی خوش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر واقعی ایسا ہوا تو لوگ کہنا شروع کردیں گے کہ یہ تو وہی نطام حکومت ہے جسے ہندو قوم پرست ’رام راج‘ کہتے ہیں اور جس کے نفاذ کا وہ ہمیشہ سے انتظار کرتے ہیں!

بہرحال، رام راج آئے نہ آئے، بس یہ دعا کرتے رہیے گا کہ جب گوشت کا کاروبار کرنے والوں سے فرصت ملنے کے بعد دوسروں کا نمبر آئے تو سبزی فروشوں کو بخش دیا جائے! گوشت بیچنے والوں کی طرح وہ بھی بس جہاں جگہ ملتی ہے دکان لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔

پہلے دو قطاریں تھیں، اب لگتا ہے جلدی ہی ایک ہوجائے گی، بس ایسا نہ ہو جیسا کرنسی بند ہونے کے بعد ہوا تھا، قطاریں جہاں سے شروع ہوں وہاں سبزی کی دکان بھی نہ ہو!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں